نگراں کابینہ کے اختیارات اور ذمہ داریوں کا تعین کر دیا گیا

جمعہ جون 00:00

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) نگراں کابینہ کے اختیارات اور ذمہ داریوں کا تعین کر دیا گیا ۔ نگراں حکومت نہ اہم فیصلے کرسکتی ہے نہ ہی کسی ملک یا عالمی ادارے کے ساتھ مذاکرات یا معاہدہ، صدر مملکت نے گائیڈ لائنز کی منظوری دے دی، ذرائع کا کہنا ہے آئی ایم ایف یا ورلڈبینک سے مذاکراتی عمل کا معاملہ بھی کھٹائی میں پڑ گیاہے۔

نگراں وزیراعظم کی سفارش پر کابینہ ڈویژن نینگراں کابینہ کے اختیارات اور ذمہ داریوں کا تعین کر دیا، صدرمملکت نے منظوری بھی دے دی، نگراں حکومت کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھائیگی جو عام انتخابات پرکسی بھی طرح سے اثرانداز ہو، نگراں حکومت آنے والی منتخب حکومت پر اثر انداز ہونے والی پالیسی فیصلے نہیں کرسکتی، نگراں حکومت صرف روزمرہ کے امور سر انجام دینے کی ہی مجاز ہو گی ۔

(جاری ہے)

کابینہ ڈویژن کے تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژن کو بھجوائے گئے ہدایت نامہ میں کہاگیاہے کہ نگران حکومت الیکشن کمیشن سے ہرقسم کاتعاون کرنے اور مدد دینے کی پابند ہوگی، نگراں حکومت فردواحد سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ غیرجانبدارانہ رویے کی پاسداری کرے گی۔ذرائع کا کہناہے کہ نگراں حکومت ،بین الاقوامی سطح کے مذاکرات ،عالمی معاہدے پر دستخط یا توثیق بھی نہیں کرسکتی، نئی گائیڈلائنزکے بعد آئی ایم ایف یا ورلڈبینک سے مذاکراتی عمل کا معاملہ بھی کھٹائی میں پڑ گیاہے، نگراں حکومت ترقیاں دینے یا اعلی ٰسطح کی تعیناتیاں کرنے کی بھی مجاز نہیں تاہم اسے عوامی مفاد میں کم مدتی تعیناتیاں کرنے کااختیار ہو گا، اگر ضروری ہوتو الیکشن کمیشن کی منظوری سے اعلی افسران کے تبادلے بھی کیے جا سکیں گے ۔