سب کچھ قانون سے بالاتر ہورہا ہے، مشرف کو گارنٹی کیسے دی جا سکتی ہے؟نواز شریف

کوئی آئین توڑ دے، تباہی پھیر دے، لیکن چیف جسٹس چاہیں گے تو اسےکچھ نہیں کہا جائے گا، سابق وزیراعظم کی احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو

Fahad Shabbir فہد شبیر جمعہ جون 10:12

سب کچھ قانون سے بالاتر ہورہا ہے، مشرف کو گارنٹی کیسے دی جا سکتی ہے؟نواز ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8جون۔2018ء) سابق وزیراعظم نواز شریف نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی تاحیات نااہلی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب کچھ قانون سے بالاتر ہو رہا ہے، مشرف جیسے شخص کو کیسے گارنٹی دی جا سکتی ہے؟احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں نواز شریف نے سوال اٹھایا کہ 'ہماری عقل و فراست میں یہ بات نہیں آ رہی،کدھر گیا آئین و قانون، آرٹیکل 6 اور کدھر گئے سارے مقدمے؟سابق وزیراعظم نواز شریف نے مزید کہا کہ 'مشرف کے خلاف ایک طرف تو سنگین غداری کا مقدمہ چل رہا ہے اور دوسری طرف انہیں الیکشن لڑنےکی مشروط اجازت مل گئی جبکہ مجھے تاحیات نا اہل کر دیا گیا۔

سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ 'کوئی قتل کر دے،آئین توڑ دے، تباہی پھیر دے، لیکن چیف جسٹس چاہیں گے تو اسےکچھ نہیں کہا جائے گا۔

(جاری ہے)

نواز شریف کا کہنا تھا کہ اکبر بگٹی قتل کیس میں مشرف شامل ہے، ججوں کو نظر بند کرنے، 12 مئی کے واقعے اور 2 بار آئین توڑنے میں مشرف شامل ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے شکوہ کیا کہ 'مجھے اپنی بیگم (کلثوم نواز) کی عیادت کے لیے 3 دن کا استثنیٰ بھی نہیں مل رہا'۔

یاد رہے کہ  سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کو عام انتخابات 2018 ء کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی مشروط اجازت دے دی، پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی کا فیصلہ موجودہ کیس کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوگا، عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کو13 جون کولاہو ر رجسٹری میں پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا، عدالت حکم دے گی کہ انہیں عدالت پہنچنے تک گرفتار نہ کیا جائے۔سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس بھی زیرسماعت ہے جس میں خصوصی عدالت نے ان کی انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کا حکم دے رکھا ہے۔