تجارتی تنازع سے امریکا کی 14 فیصد زرعی برآمدات متاثر ہونے کا خطرہ

جمعہ جون 10:30

واشنگٹن۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) امریکا کے تجارت سے متعلق ایک اعلیٰ مذاکرات کار نے بتایا ہے کہ چین اور میکسیکو جیسے ملکوں کے ساتھ تجارتی تنازع کے باعث امریکاکی 14 فیصد زرعی پیداوار کو جس کی مالیت تقریباً 140 ارب ڈالر سالانہ ہے خطرہ ہے یا اسے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔میکسیکو نے گشتہ منگل کو امریکی تجارتی سامان پر جن میں سٹیل، سور کا گوشت اور کافی بھی شامل ہے، محصولات عائد کئے۔

اس نے یہ ٹیکس امریکہ کی جانب سے سٹیل اور ایلمونیم پر لگائے گئے محصولات کے جواب میں عائد کیے ہیں۔محصولات بڑھے سے تجارتی کشیدگی بڑھ گئی ہے اور امریکہ،، کینیڈا،، میکسیکو کے ٹریلین ڈالر کے آزاد تجارت کے معاہدے پر بات چیت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔تجارتی اشیا کے لیے امریکہ کے مذاکرات اعلیٰ گریگ ڈوڈ نے کہا ہے کہ ہمیں اس صورت حال میں اپنے لیے راستہ بنایا ہے۔

(جاری ہے)

چین نے بھی امریکی گوشت اور دوسری مصنوعات پر ٹیکس لگا دیئے ہیں۔ چین امریکا کے زرعی شعبے سے سب سے زیادہ خریداری کرنے والا ایک اور ملک ہے۔حال ہی میں صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ چین کی مصنوعات پر 150 ارب ڈالر کے ٹیکس لگا دیں گے، جس کا سبب امریکی متاع دانش پر دونوں ملکوں کے درمیان موجود تنازعات ہیں۔ دھمکی کے جواب میں چین نے کہا ہے کہ اس دھمکی پر عمل درآمد دے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی معاہدے ختم ہو جائیں گے۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو امریکہ میں سب سے متاثرہ فریق زرعی شعبہ ہو گا کیونکہ چین امریکہ سے زیادہ تر زرعی شعبے کی چیزیں درآمد کرتا ہے۔موجودہ صورت حال سے ریاست آئیوا اور دوسرے علاقوں کے وہ کاشت کار اور زرعی فارموں کے مالکان تشویش میں ہیں جن کی پیداوار اور مصنوعات بیرون ملک جاتی ہیں۔