دبئی:پولیس پر تھُوکنے اور حملہ آور ہونے پر سیکیورٹی گارڈ حراست میں

جھگڑا پولیس کی جانب سے شناخت طلب کرنے پر ہوا

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعہ جون 11:45

دبئی:پولیس پر تھُوکنے اور حملہ آور ہونے پر سیکیورٹی گارڈ حراست میں
دُبئی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 8 جُون 2018ء) کینیا سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی گارڈ پر پولیس اہلکاروں پر تھُوکنے اور اُن پر حملہ آور ہونے کا مقدمہ دُبئی کی مقامی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ سرکاری استغاثہ کے ریکارڈ کے مطابق‘ افریقی ملک کینیا سے تعلق والے 22 سالہ باشندہ دُبئی میں سیکیورٹی گارڈ کی ڈیوٹی نبھا رہا ہے۔ 16 اپریل 16 اپریل 2018ء کونائف کے علاقے النخیل میں تعینات تین پولیس اہلکاروں نے چیکنگ کے دوران اُسے روک کر اُس سے شناختی کارڈ طلب کیا۔

جس پر ملزم نے حکم کی تعمیل کرنے کی بجائے پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی اور اُن پر حملہ آور بھی ہو گیا۔ استغاثہ کی جانب سے ملزم پر ڈیوٹی پر حاضر پولیس افسران پر سر عام حملہ آور ہونے اور گالیاں بکنے کے الزام عائد کیے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

ملزم کے حملے کا نشانہ بننے والے ان تین مذکورہ پولیس اہلکاروں میں سے ایک اہلکار نے کہا کہ یہ واقعہ اُس وقت رُونما ہوا جب اُس نے ملزم کو روک کر اُس سے شناختی کارڈ دکھانے کو کہا۔

’’دراصل اس علاقے میں ایک جھگڑا بھی ہوا تھا جس کی وجہ سے وہاں سے گزرنے والے ہر شخص سے شناخت طلب کی جا رہی تھی۔ مگر ملزم نے حکم کی تعمیل نہیں کی بلکہ سختی سے پیش آتے ہوئے مجھ سے بدکلامی کرنے لگا۔ پھر اُس نے اپنا سر دیوار سے ٹکرانا شروع کر دیا۔ میں اور میرے ساتھی اہلکاروں نے اُسے ایسا کرنے سے روکا۔ ‘‘ مذکورہ اہلکار نے استغاثہ کو بتایا کہ طبی امداد کے عملے کو طلب کیے جانے کے باوجود‘ گارڈ موقع پر طبی امداد نہیں لینا چاہتا تھا۔

پھر اُسے حراست میں لے کر نائف پولیس سٹیشن منتقل کر دیا گیا۔ ایک 38 سالہ پاکستانی تاجر‘ نے جرح کے دوران تصدیق کی کہ اُس نے گارڈ کو پولیس اہلکاروں پر حملہ آور ہوتے اور اُن سے بدتمیزی کرتے دیکھا تھا۔تاجر کے مطابق ’’میں نے گارڈ کو ان پولیس اہلکاروں پر تھُوکتے بھی دیکھا۔ یہاں تک کہ اُس نے ایک اہلکار کو دھکّا دے کر گرا بھی دیا۔ میں اس گارڈ کو نہیں جانتا اور یہ بھی نہیں بتا سکتا کہ اس نے وردی میں ملبوس پولیس اہلکاروں پر حملہ کیوں کیا۔‘‘ عدالت کی سماعت 2 جولائی 2018ء تک ملتوی کر دی گئی ہے۔