غیر قانونی طور پر نظر بندکشمیریوں کی واحد خطا ’حق خود ارادیت ‘ کا مطالبہ ہے، سید علی گیلانی

جمعہ جون 12:29

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیریوں کو ضمیر کے قیدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نظر بندوں کی واحد خطا اپنے پیدائشی حق ’’حقِ خودارادیت‘‘ کا مطالبہ ہے۔ انہوںنے بھارت کی تہاڑ، جودھپور، بنگلور, جموںخطے کی کوٹ بلوال، ریاسی، کٹھوعہ، اُدھمپور اور مقبوضہ وادی کی مٹن، بارہ مولہ، پلوامہ اور سرینگر سینٹرل جیل میں نظر بند کشمیریوں کے صبرو استقلال کو خراج تحسین پیش کیا۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ کشمیریوں کو جرائم کیوجہ سے نہیں بلکہ اپنا پیدائشی حق ، حق خود ارادیت مانگنے کی پاداش میں جیلوں میں ٹھونسا جا رہا ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ ہند و انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے اشاروں پر ناچنے والی کٹھ پتلی حکومت کشمیر یوں کو بڑے پیمانے پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے ۔

سید علی گیلانی نے کہا کہ نظر بندوں کو جیلوں میں انسانیت سور اذیتیں دی جا رہی ہیں اور طبی سمیت تمام بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ حریت رہنما میر حفیظ اللہ گزشتہ دو برس سے نظر بند ہیں اور ذیابیطس ، پراسٹیٹ اور گردوں کی بیماری میں مبتلا ہونے کے باجود انکا علاج نہیں کرایا جا رہا۔ انہوںنے کہا کہ میر حفیظ اللہ اس وقت اسلام آباد کے صدر تھانے میں نظر بند ہیں اور ان پر لاگو کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ عدالت کی طرف سے کالعدم قراردیے جانے کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا جارہا جو سفاکیت کا نمایاں مظاہرہ ہے۔