کٹھ پتلی حکومت کشمیریوں کی نمائندگی کا حق نہیں رکھتی، تحریک حریت جموںوکشمیر

جمعہ جون 12:29

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میںتحریک حریت جموں کشمیر نے تنظیم کے رہنما امیرِ حمزہ شاہ کی گزشتہ ڈھائی برس سے مسلسل غیر قانونی نظربندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کٹھ پتلی انتظامیہ تمام تر مسلمہ قانونی، انسانی اور اخلاقی اصولوں کو روندتے ہوئے نظر بندوں کے خلاف اوچھے حربے استعمال کر رہی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تحریک حریت جموں وکشمیر نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ امیرِ حمزہ شاہ کو جنوری 2016؁ء میں بے بنیاد مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا جبکہ ان پر لاگو کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ عدالت کی طرف سے کالعدم قرار دیے جانے کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا جا رہا ۔

تحریک حریت جموں کشمیر نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت نواز سیاست دان نہیں بلکہ آزادی پسند رہنمااور کارکن کشمیری عوام کے حقیقی نمائندے ہیں ۔

(جاری ہے)

بیان میں کہا گیا کہ نئی دہلی کی آشیرواد سے بننے والی کٹھ پتلی حکومت کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے آپ کو عوام کا نمائندہ سمجھے۔ بیان میں پرویز احمد مرازی کے گھر پر بھارتی پولیس کے چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موصوف ایک سیاسی کارکن ہے لہذا ان کے گھر پر چھاپے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

بیان میں تحریک حریت کے رکن محمد رفیق اویسی کی مسلسل نظر بندی کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان پر لاگو کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ عدالت نے کالعدم قرار دیا ہے لیکن رہا کرنے کے بجائے انہیں سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا جو محض ایک انتقامی کارروائی ہے۔بیان میں انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کی گئی کہ وہ کشمیری نظر بندوں کی حالت زار کا نوٹس لیکر انکی رہائی کے لیے کردار ادا کریں۔