سابق بھارتی صدر کے ہندوقوم پرست جماعت کے ہیڈکوارٹر جانے پر تنازعہ

اس ملک میں کوئی بھی شہری پرایا نہیں،بھارت کی دھرتی پر پیدا ہونے والا ہر شخص بھارت کا بیٹا ہے،پرنپ مکھرجی

جمعہ جون 12:29

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) بھارت میں پہلی مرتبہ کسی سابق صدرنے ہندو قوم پرست جماعت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی تقریب میں شرکت کی۔ سابق صدر اور کانگریس کے سینیئر ترین رہنما پرنب مکھرجی کی تقریب میں شرکت نے ایک نئے تناز عے کو جنم دے دیا۔۔بھارتی ٹی وی کے مطابق راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس )کے ہیڈکوارٹرز ناگپور میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر پرنب مکھرجی نے کہا کہ وہ قوم، قوم پرستی اور حب الوطنی کے بارے میں سمجھانے کے لیے یہاں آئے ہیں۔

وہ آر ایس ایس کے کارکن کے طورپر نہیں بلکہ ایک مہمان کے طور یہاں آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی تعمیر میں تمام لوگوں کا رول ہے اور ہم تکثیریت کا احترام کرتے ہیں۔اس تقریب میں پرنب مکھرجی کے شرکت کے اعلان کے بعد سے ہی تنازعہ شروع ہوگیا تھا۔

(جاری ہے)

پورے ملک کی نگاہیں اس بات پر لگی تھیں کہ زندگی بھر آر ایس ایس کے نظریات کی مخالفت کرنے والا ایک سیاسی رہنما اسی کے گھر میں جاکر کیا کہتا ہے۔

یہ تقریب آر ایس ایس کے تربیتی کیمپ سے تین سالہ تربیت حاصل کرنے کے بعد پاس آؤٹ کرنے والوں کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ تین سالہ تربیتی کورس مکمل کرنے کے بعد یہ ’پرچارک‘ یا مبلغ کے طور پر ہندو قوم پرستی کی تبلیغ کے لیے ہمہ وقتی کارکن کے طور پر کام کریں گے۔ موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ابتدا میں آر ایس ایس کے پرچارک کے طورپر کام کیا تھا۔آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے پرنب مکھرجی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کو مدعوکرنے پر تنازع مناسب نہیں ہے۔ ہندو قوم پرست تنظیم کے سربراہ نے کہا کہ اس ملک میں کوئی بھی شہری ان کے لیے پرایا نہیںبھارت کی دھرتی پر پیدا ہونے والا ہر شخص بھارت کا بیٹا ہے اور کثرت میں وحدت بھارت کی صدیوں پرانی روایت رہی ہے ۔

متعلقہ عنوان :