دُبئی: سابقہ خاتون باس کو مغلظات بکنے اور دھمکیاں دینے والابھارتی شہری عدالت کے شکنجے میں

ملزم نے اپنی نوکری کا کانٹریکٹ ختم کیے جانے پر ای میلز اور فیس بُک پر خاتون کو بدنام کرنے کی کوشش بھی کی

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعہ جون 12:26

دُبئی: سابقہ خاتون باس کو مغلظات بکنے اور دھمکیاں دینے والابھارتی شہری ..
دُبئی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 8 جُون 2018ء) بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک سابقہ سیلز ایگزیکٹو کو دُبئی کی عدالت میں اپنی سابقہ باس کو فیس بُک اور ای میلز کے ذریعے دھمکی آمیز پیغامات بھیجنے پر سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سرکاری استغاثہ کے مطابق‘ 30 سالہ بھارتی شہری نے مُدعیہ کو جو ایک اُزبک خاتون ہے‘ا ور اپنا بزنس کرتی ہے‘ کی جانب سے نوکری سے فارغ کرنے یہ پیغامات بھیجے کہ وہ اُس کی زندگی تباہ کر دے گا۔

اس کے علاوہ ان پیغامات میں خاتون کے بارے میں نامناسب الفاظ بھی استعمال کیے گئے۔ ملزم نے مبینہ طور پر 34 سالہ خاتون کی تصویر فیس بُک پر پوسٹ کر کے اُس کے نیچے توہین آمیز سُرخیاں لگائیاں‘ جن میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ملزم کی جانب سے تنخواہ کی رقم مانگنے پر اُس کی خاتون باس نے اُسے نوکری سے فارغ کر دیا۔

(جاری ہے)

ملزم نے عدالت میں لگائے گئے الزامات سے انکار کر دیا کہ اُس نے سابقہ باس کو دھمکی آمیز پیغامات بھیجے یا سوشل میڈیاپراس کے بارے میں بدکلامی اور الزام تراشی کی ہے۔

یہ کیس 4 مئی 2017ء کو البرشا پولیس سٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔ بزنس مین خاتون کے مطابق ملزم اُس کی ہاسپیٹیلٹی اور امپورٹ فرم میں اس واقعے سے پہلے پچھلے آٹھ ماہ سے کام کر رہا تھا۔ ’’مجھے اس شخص کو اس وجہ سے نوکری سے فارغ کرنا پڑا کہ اس کی کام میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ یہ ورکرز کو اُن کے کام کی جگہ پر ڈراپ نہیں کرتا تھا اور اکثر اپنے کام کی جگہ پر موجود نہیں ہوتا تھا۔

یہاں تک کہ اس نے اپنی خراب کارکردگی کے حوالے سے میرے دیئے گئے نوٹس کو بھی پرواہ کے قابل نہ سمجھا اور اکثر کام کی جگہ سے فرار ہوتا رہا۔ ‘‘ خاتون کے مطابق اس نے 21 جنوری 2017ء کو اس کا جاب کنٹریکٹ ختم کر دِیا تھا‘ جس پر اس نے بہت منفی ردِعمل کا مظاہرہ کیا ’’اس نے مجھے میرے دفتری ای میل پر گالیوں پر مبنی پیغامات بھیجنے شروع کر دیئے۔ اس نے فیس بُک پر الزام لگایا کہ ہم جنسی عمل کے مرتکب بھی ہو چکے ہیں اور یہ کہ اُس کے پاس میرے بہت سے غیر شائستہ قسم کے بھیجے گئے میسجز محفوظ ہیں۔

اس کے علاوہ مجھے اپنے خاوند‘ دوستوں اور سٹاف کے سامنے بہت زیادہ شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے اپنے فیس بُک پیج پر میری تصویر لگا کر اس کے نیچے یہ میسج لکھا ’’اس (خاتون) نے میرے پیسے دبا لئے اور مجھے ملازمت سے فارغ کرنے سے قبل میرے معاشی حقوق سے محروم کر دیا۔‘‘ خاتون نے استغاثہ کو بتایا کہ اس نے ملزم کے خلاف کوئی ایسا غلط اقدام نہیں اُٹھایا جس پر ملزم کو مشتعل ہو کر ایسا کرنے کا موقع ملتا۔

خاتون نے یہ بھی انکشاف کیاکہ اس کیس میں گرفتار ہو جانے کے بعد بھی ملزم اُسے کال کر کے گالیاں بکتا رہا۔ ملزم نے جرح کے دوران اعتراف کیا کہ اس نے خاتون کو رُسوا کرنے اور توہین کرنے والے پیغامات پوسٹ کیے تھے۔ ملزم کی خاتون کے بارے میں الزام تراشی اور بد زبانی پر مشتمل پوسٹس عدالت میں ترجمہ کر کے بطور ثبوت پیش کر دی گئی ہیں۔ کیس کی اگلی سماعت 9 جولائی 2018ء کو ہو گی۔