54 ارب کے قرضوں سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے قرضے معاف کرانیوالے222کمپنیوں سے جواب طلب کر لیا

قوم کے 54ارب کھانے کے باوجود تاحال کمپنیاں کام کررہی ہیں‘ پیسے بھی ہضم‘لینڈ کروزراورکاروبار بھی چل رہے ہیں‘ قرض نادہندگان کی جائیدادیں بھی ضبط کرلی جائیں گی اور اگر قوم کے پیسے واپس نہ کیے تو معاملہ نیب کے سپرد کردیں گے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے دوران سماعت ریمارکس، سماعت 19 جون تک ملتوی

جمعہ جون 12:44

54 ارب کے قرضوں سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے قرضے معاف کرانیوالے222کمپنیوں ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) سپریم کورٹ نے قرضے معاف کرانیوالی222کمپنیوں سے1ہفتے میں تفصیلی جواب طلب کر لیا ، چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ قوم کے 54 ارب روپے کھانے کے باوجود تاحال کمپنیاں کام کررہی ہیں، پیسے بھی ہضم،لینڈ کروزراورکاروبار بھی چل رہے ہیں،قرض نادہندگان کی جائیدادیں بھی ضبط کرلی جائیں گی اور اگر قوم کے پیسے واپس نہ کیے تو معاملہ نیب کے سپرد کردیں گے سماعت 19 جون تک ملتوی کردی۔

جمعہ کو چیف جسٹس نے 54ارب روپے کے قرضوں سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریماکس دیئے کہ قوم کے 54 ارب روپے کھانے کے باوجود تاحال کمپنیاں کام کررہی ہیں،پیسے بھی ہضم،لینڈ کروزراورکاروبار بھی چل رہے ہیں،قرض نادہندگان کی جائیدادیں بھی ضبط کرلی جائیں گی اور اگر قوم کے پیسے واپس نہ کیے تو معاملہ نیب کے سپرد کردیں گے۔

(جاری ہے)

وکلاکی سماعت ملتوی کرنیکی استدعاپرچیف جسٹس کا جواب میں کہنا تھا کہ یہ اہم کیس ملتوی نہیں کرسکتا،روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت ہوگی۔۔وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ ایس ای سی پی کے ذریعے کمپنیز کو نوٹس دیے جائیں جس پر عدالت نے ریماکس دیئے کہ پبلک نوٹس کردیا ہے اگر کوئی نہیں آتا تو اپنے رسک پر مت آئے،جو کمپنیاں نہیں آئیں گی انکے خلاف یکطرفہ کارروائی ہوگی۔ سپریم کورٹ نے قرضے معاف کرانیوالی222کمپنیوں سی1ہفتے میں تفصیلی جواب مانگتے ہوئے سماعت 19 جون تک ملتوی کردی۔