ْعراقی حکومت کی تشکیل میں مشکلات برقرار،

الحکیم، الصدر اور علاوی پر مشتمل نیا سیاسی اتحاد تینوں فریقوں کا اجلاس دارالحکومت بغداد میں الحکمہ گروپ کے صدر دفتر میں منعقد ہوا،دھاندلی پر بھی بات چیت

جمعہ جون 13:12

بغداد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) عراق میں حکومت کی تشکیل کے لیے ایک نیا اتحاد سامنے آیا ہے جس میں نیشنل الائنس کے علاوہ سائرون اور الحکمہ گروپ شامل ہیں۔اس نئے اتحاد میں 100 سے زیادہ ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں جس کا مقصد عراقی پارلیمنٹ میں سب سے بڑا بلاک تشکیل دینا ہے۔اس سلسلے میں عمار الحکیم کے زیر قیادت الحکمہ گروپ، مقتدی الصدر کے زیر قیادت سائرون گروپ اور ایاد علاوی کے زیر قیادت نیشنل الائنس کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوئے۔

(جاری ہے)

عرب ٹی وی کے مطابق تینوں فریقوں کا اجلاس دارالحکومت بغداد میں الحکمہ گروپ کے صدر دفتر میں منعقد ہوا۔اس سے قبل بدھ کے روز الصدری گروپ کے سربراہ کے ترجمان جعفر الموسوی نے باور کرایا تھا کہ پارلیمنٹ اور حکومت اس رقم کے ذمّے دار ہیں جو الکٹرونک مشینری کے لیے ادا کی گئی۔ ترجمان کے مطابق پارلیمنٹ کی جانب سے انتخابی قانون میں ترمیم آئین کے آرٹیکل 19 کے پیراگراف 9 کی خلاف ورزی ہے۔ الموسوی نے زور دے کر کہا کہ سائرون گروپ کو حاصل ہونے والی نشستوں کی تعداد میں ہاتھ سے گنتی کے بعد بھی کوئی فرق نہیں آئے گا۔ترجمان نے بعض صوبوں میں دھاندلی کا اقرار کرتے ہوئے کہا کہ اس صورت حال کا علاج انتخابی قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

متعلقہ عنوان :