حکومت سہولیات فراہم کرے توکھلاڑی روک بال میں بھی ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں، امہ لیلیٰ کلثوم رانا

جمعہ جون 14:00

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) پاکستان روک بال فیڈریشن کی سیکرٹری جنرل امہ لیلیٰ کلثوم رانا نے کہا ہے کہ حکومت سہولیات فراہم کرے توکھلاڑی روک بال میں بھی ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔ گزشتہ روز اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ دیگر کھیلوں کی طرح روک بال کھیل پر بھی توجہ دے تو انٹرنیشنل سطح پر کافی میڈلز آنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں کھیلوںکے انعقاد کو یقینی بنایا جائے تو ملک میں کھیلوں کے گرتے ہوئے معیار پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے چار دہائیاں قبل ملک میں یونین کونسل اور دیہاتوں کی سطح پر کھیلوں کے مقابلے ہوتے تھے جو کہ آج بالکل ختم ہو چکے ہیں حکومت کو چاہئے نوجواجوں کو صحت مند سرگرمیاں فراہم کرنے کیلئے کھیلوں کے مقابلوں کو دوبارہ یونین کونسل اور دیہاتوں کی سطح شروع کرے تاکہ نئی نسل انٹرنیٹ اور بری عادتوں کو چھوڑ کر کھیلوں کی سرگرمیوں کی طرف آئیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر نئے کھیلوں کے ٹیلنٹ نہ آنے کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد نہ ہونے کے برابر ہے۔

(جاری ہے)

دوسرا مسئلہ بے روزگاری ہے ہر نوجوان کے والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ میرا بچہ یا بچی ڈاکٹر یا انجینئر بنے کیونکہ کھلاڑی کو تو ملازمت نہیں ملتی جس کی وجہ سے ملک میں کھیلوں کا معیار دن بدن گرتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں حکومت کو کھلاڑی کیلئے ملازمتیں فراہم کرنے کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات کرنے چاہئے جس سے نوجوان کھیلوں کی طرف آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ روک بال ریفریز اینڈ کوچنگ کورس آئندہ ماہ ہوگا جس میں ملک بھر سے کوچز اور ریفریز حصہ لیں گے، قومی روک بال چیمپئن شپ رواں سال اکتوبر میں اسلام آباد میں منعقد کروانے کی تحویز زیر غور ہے جس میں اسلام آباد روک بال ایسوسی ایشن نے کام شروع کر دیا ہے۔ چیمپئن شپ میں ملک بھر سے چودہ ٹیمیں حصہ لیں گی جن میں پنجاب،، سندھ،، خیبرپختونخوا،، بلوچستان،، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر، فاٹا اور اسلام آباد کے علاوہ مختلف محکموں کی ٹیمیں شامل ہیں۔