ن لیگ کا نگران وزیراعلی پنجاب پر اعتراض؛ کیا الیکشن ہارنے کی صورت میں ن لیگ بھی سڑکوں پر آئے گی؟ سابق وزیراعظم نے بتا دیا

ہم نے نہ کبھی دھرنے دئیے ہیں اور نہ ہی ہم الیکشن کو متنازعہ بنانا چاہتے ہیں،ہم نے تو عوام کو پہلے ہی اس بات سے آگاہ کر دیا ہے کہ الیشکن کمیشن کے اس ایک فیصلے کی وجہ سے الیکشن متنازعہ بننے کا امکان ہے،سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی گفتگو

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ جون 14:17

ن لیگ کا نگران وزیراعلی پنجاب پر اعتراض؛ کیا الیکشن ہارنے کی صورت میں ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08جون2018ء) الیکشن کمیشن نے پاکستان نے تحریک انصاف کے تجویز کردہ نام حسن عسکری کو نگران وزیر اعلی پنجاب کے لیے نامزد کیا ہے۔تاہم پاکستان مسلم لیگ ن نے حسن عسکری کا نام مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ حسن عسکری ٹی وی پر بیٹھ کر ان کے خلاف باتیں کرتے ہیں اور ن لیگ پر تنقید کرتے ہیں۔نگران وزیراعلی پنجاب حسن عسکری نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئیر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حسن عسکری کے نگران وزیر اعلی پنجاب بن جانے کے بعد 2018ء کا الیکشن متنازعہ بن جائے گا۔۔الیکشن کمیشن کو اس بات کا اندازہ ہونا چاہئیے کہ نگران وزیر اعلی پنجاب کے لیے انہوں نے جس نام کا انتخابات کیا ہے اس سے الیکشن صاف شفاف ہوتے نظر نہیں آ رہے۔

(جاری ہے)

پاکستان کے سب سے بڑےصوبے کا وزیراعلی ایک ایسے شخص کو بنا دیا گیا جو غیر جانب دار نہیں ہے۔اینکر کی طرف سے سوال پوچھا گیا کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ بنیادی الیکشن لڑیں گے۔اور الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کریں گے۔لیکن الیکشن ہارنے کی صورت میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سڑکوں پر آ جائیں گے اور دھرنے دیں گے۔تو شاہد خاقان عباسی کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم نے نہ کبھی دھرنے دئیے ہیں اور نہ ہی ہم الیکشن کو متنازعہ بنانا چاہتے ہیں۔

ہم نے تو عوام کو پہلے ہی اس بات سے آگاہ کر دیا ہے کہ الیشکن کمیشن کے اس ایک فیصلے کی وجہ سے الیکشن متنازعہ بننے کا امکان ہے۔یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے حسن عسکری کی بطورنگراں وزیراعلیٰ پنجاب تقرری مسترد کردی تھی۔۔مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مطالبہ کیا تھا کہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے،،الیکشن کمیشن نے پنجا ب میں الیکشن کمیشن کے عمل کو مشکوک بنا دیا ہے،حسن عسکری کی موجودگی میں شفاف الیکشن نہیں ہوں گے،بدقسمتی ہے کہ الیکشن کمیشن نے حسن عسکری کا نام نامزد کیا ہے۔