پارٹی قائدین کا ایک سے زائد حلقوں سے انتخابی معرکے میں حصہ لینے کا فیصلہ

بلاول بھٹو زر داری ،ْ عمران خان اور شہبازشریف ایک سے زائد حلقوں سے الیکشن لڑینگے پارٹی نے امیدواروں کی حتمی فہرست تیار کرلی ہے جو کسی بھی وقت پارٹی کی ویب سائٹ پر شائع کردی جائے گی ،ْفواد چوہدری

جمعہ جون 14:47

پارٹی قائدین کا ایک سے زائد حلقوں سے انتخابی معرکے میں حصہ لینے کا فیصلہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) پاکستان کی 3 بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان الیکشن 2018 میں قومی اسمبلی کی نشست کے لیے متعدد حلقوں سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان 3 صوبوں پنجاب،، سندھ اور خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کی نشست کیلئے میدان میں اتریں گے۔ادھر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار، جو ٹکٹ تقسیم کرنے والے پارلیمانی بورڈ میں شامل تھے نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردای سندھ میں لاڑکانہ اور کراچی جبکہ خیبر پختونخوا میں مالاکنڈ سے قومی اسمبلی کی نشست کیلئے امیدوار ہوں گے۔

انہو ںنے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کا بھی نواب شاہ سے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے حصہ لینے کا ارادہ تھا تاہم انہوں نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اس حوالے سے جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام جنرل سیکریٹری احسن اقبال سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو بھی پارٹی کے رہنماؤں نے ایک سے زائد نشستوں سے انتخابات میں حصہ لینے کی تجویز دی ہے۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق شہباز شریف لاہور سے قومی اسمبلی کی نشست کے علاوہ ڈیرہ غازی خان سے حلقہ این اے 192 سے کاغذات جمع کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق عمران خان کا کراچی،، لاہور،، میانوالی، راولپنڈی اور بنوں سے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے کھڑے ہونے کا ارادہ ہے۔واضح رہے 2013 کے انتخابات میں عمران خان میانوالی کے حلقہ این اے 71، لاہور کے حلقہ این اے 122، راولپنڈی کے حلقہ این اے 56 اور پشاور کے حلقہ این اے 1 سے کھڑے ہوئے تھے، جہاں انہیں لاہور کی نشست پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم وہ بقیہ 3 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہے تھے۔

بعد ازاں عمران خان نے راولپنڈی کی نشست برقرار رکھی جبکہ پشاور کی نشست پر ضمنی انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور کامیاب ہوگئے تھے۔دوسری جانب عمران خان نے کراچی شرقی کے حلقہ این اے 243 سے بھی کاغذات نامزدگی حاصل کیے ہیں ،ْحال ہی میں دیئے گئے بیان میں عمران خان کا کہنا تھا کہ کراچی کو بہتر کیے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔

اس کے علاوہ بنوں جو جمعیت علمائے اسلام (ف) کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، عمران خان کا وہاں سے انتخابات میں حصہ لینا دلچسپ صورتحال کا باعث ہوسکتا ہے۔متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعت جے یو آئی (ف) نے امیدواروں کو حتمی شکل نہیں دی تاہم غالب گمان یہی ہے کہ عمران خان کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمان یا سابق وزیراعلیٰ اکرم درانی انتخاب لڑیں گے۔

اس حوالے سے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان نے آخری لمحات میں راولپنڈی سے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تاہم گزشتہ حلقے این اے 54 کے بجائے اس مرتبہ وہ این اے 61 سے میدان میں اتریں گے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پارٹی نے امیدواروں کی حتمی فہرست تیار کرلی ہے جو کسی بھی وقت پارٹی کی ویب سائٹ پر شائع کردی جائے گی، ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ امیدواروں کے چناؤ میں اتنا وقت اس لیے صرف ہوا کہ ہم بہت دیکھ بھال کر امیدواروں کی جانچ پڑتال کررہے تھے۔اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی این اے 221، لیاقت جتوئی این اے 234، کریم علی جتوئی این اے 235 اور ڈاکٹر عارف علوی این اے 247 سے قومی اسمبلی کی نشست کے امیدوار ہوں گے۔