ایلوپیتھی امراض پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہو چکی متبادل طریقہ علاج کو فروغ دیا جائے ‘حکیم محمد شفیع طالب قادری

پی ایچ سی کے قیام سے مفید ترین طریقہ ہائے علاج طب نبوی ، علاج بالغذاء ، الیکٹر ہومیو پیتھی شامل ہیں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ‘ حکماء

جمعہ جون 15:18

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) پاکستان میں متبادل طریقہ ہائے علاج کی سرکاری سرپرستی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ، ایلوپیتھی امراض پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے ،متبادل طریقہ علاج کو فروغ دے کر امراض پر قابو پایا جا سکتا ہے، یونیسیف اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن بھی متبادل طریقہ علاج کی اہمیت کو تسلیم کر چکے ہیں ،،پاکستان میں ان کے تحفظ اور فروغ کیلئے حکومتی سطح پر اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے ، پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے قیام سے محض چار طریقہ ہائے علاج کے تحت پریکٹس کی اجازت دی گئی ہے جبکہ دیگر مفید ترین طریقہ ہائے علاج جن میں سر فہرست طب نبوی ، طب مفرد اعضاء ( علاج بالغذا) ، الیکٹرو ہومیو پیتھی ، حجامہ ، آکو پنکچر کے معالجین کو اتائی قرار دے کر طب دشمنی کا واضح ثبوت دیا ہے ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار چیئرمین حکیم انقلاب طبی کونسل پاکستان پروفیسر حکیم محمد شفیع طالب قادری نے دعوت افطار کے موقع پر کونسل کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں حکیم غلام فرید میر ، حکیم غلام مرتضیٰ مجاہد ، حکیم محمد افضل میو ، حکیم عبدالمجید کلاسن ، حکیم چوہدری شبیر احمد راں ، حکیم قاری دائود ربانی ، حکیم ڈاکٹر محمد مشتاق طاہر ، حکیم ناصر محمود ، حکیم حافظ محمد الیاس ، حکیم ڈاکٹر محمد عابد شفیع اور ڈاکٹر ساجد قادری موجود تھے ۔

انہوں نے کہا کہ طب مفرد اعضاء اور طب نبوی کے معالجین عرصہ دراز سے عوام الناس کو اصولی اور فطری طریقہ علاج کے تحت طبی سہولیات فراہم کرتے آرہے ہیں ۔ حکومت پنجاب اور وزارت صحت کی غلط پالیسوں نے طب نبوی ، علاج بالغذاء ، آکوپنکچر ، الیکٹرو ہومیو پیتھی اور اس جیسے دیگر مفید ترین طریقہ ہائے علاج کے معالجین کو عطائی قرار دے دیا ہے ۔اپنے بہترین اصول قوانین اور افادیت کی بناء پر مقبول ہونے والے طریق ہائے علاج طب مفرد اعضاء کے معالجین جن کی تعداد لاکھوں میں ہے کو علاج معالجہ سے روک دینا طب دشمنی کا واضح ثبوت ہے ۔

ہماری چیف جسٹس پاکستان جناب ثاقب نثار سے اپیل ہے کہ وہ طب دوست قوانین بنائیں جن سے عظیم ا لشان طبی ورثہ کو درپیش خطرات کا خاتمہ ہو اور ملکی عوام کو بہترین علاج فراہم کیا جا سکے ۔