صدر آزاد کشمیر قابل احترام شخصیت ہیں ان کا انتخاب مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی نے سوچ سمجھ کر کیا تھا ،ْچوہدری طارق فاروق

آزاد کشمیر میں تمام سیاسی اور ریاستی امور پرامن طریقے سے چلائے جارہے ہیں اس خوشگوار ماحول کو قائم رکھنے میں تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ،ْسینئر وزیر آزاد کشمیر

جمعہ جون 15:20

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) آزاد کشمیر حکومت کے سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق نے کہا ہے کہ صدر آزاد کشمیر قابل احترام شخصیت ہیں ان کا انتخاب مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی نے سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ آزاد کشمیر میں تمام تر نظریاتی ، فکری اور شخصی اختلاف کے باوجود رواداری اور وضع داری کا ماحول قائم ہے ۔ تمام سیاسی اور ریاستی امور پرامن طریقے سے چلائے جارہے ہیں اس خوشگوار ماحول کو قائم رکھنے میں تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔

رمضان المبارک صبر و تحمل کا مہینہ ہے ۔ اس ماہ مبارک کی فیوض و برکات کو سمیٹتے ہوئے معافی اور درگزر کو رواج دینا چاہیے ۔ قانون ساز اسمبلی میں بجٹ سیشن کے دوران صدر گرامی سمیت کسی کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کی ۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے مجھ سے منسوب باتیں ، قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہاں خصوصی بات چیت کے دوران چوہدری طارق فاروق نے کہا ہے کہ دونوںاطراف میں وضع داری کو مدنظر رکھتے ہوئے مثبت سوچ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اگر کسی آئینی طریقہ کار یا حکومتی طرز عمل پر کوئی اختلاف رکھتا ہے تو اس حوالے سے عدالتوں سے رجوع کرنا چاہیے جو انصاف فراہم کررہی ہیں ۔

عدلیہ پر تنقید مناسب نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صدر آزاد کشمیر قابل احترام شخصیت ہیں ان کا انتخاب ہماری قیادت نے پارلیمانی پارٹی کے ذریعہ سوچ سمجھ کر کیا تھا اس وقت تک ان کی کارکردگی شاندار ہے ۔ تحریک آزادی کشمیر اور مسئلہ کشمیر کو بیرون ملک اجاگر کرنے کے سلسلہ میں انہوں نے مثالی کردار ادا کیا ہے ۔ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان اور پارلیمانی پارٹی کو صدر ریاست پر مکمل اعتماد ہے ۔

کچھ عناصر صدر گرامی کے حوالے سے من گھڑت اور خلاف حقائق افواہیں پھیلا رہے ہیں ۔ مسلم لیگ ن کی حکومت اور پارلیمانی پارٹی دو سال کے قلیل عرصہ میں صدر ریاست کی جانب سے مختلف ممالک میں تحریک آزادی کشمیر کیلئے کئے گئے ان کے کام سے مطمئن ہے ۔ خصوصاً صدر ریاست نے آزاد کشمیر میں قائم یونیورسٹیز کے چانسلر کی حیثیت سے جامعات کو منظم کرنے میں انتہائی موثر اور کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔

آزاد کشمیر حکومت کیساتھ ان کا تعاون مثالی ہے ۔انہوں نے تیرہویں ترمیم میں آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ معاونت کی ہے اور وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان سمیت پارلیمانی پارٹی کی رہنمائی بھی کی ہے ۔ صدر ریاست کی جانب سے چیف آف آرمی سٹاف کو تیرہویں ترمیم کیخلاف مکتوب تحریر کرنے کے حوالے سے افواہیں درست نہیں ہیں ۔ بعض سازشی عناصر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے خواہشات کو خبریں بنا کر پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں جو کامیاب نہیں ہوسکتیں ۔

بجٹ سیشن کے دوران آزاد کشمیر اسمبلی میں میں نے ہمیشہ صدر ریاست کی کارکردگی کو ستائش اور تعریف کی نظر سے بیان کیا ۔ بجٹ اجلاس میں ایسی کوئی بات نہیں کی جو صدر ریاست یا کسی اورکی شان کیخلاف ہو۔ بجٹ اجلاس میں مجھ سے منسوب تحفظات خلاف حقائق ہیں ۔ سینئر وزیر آزاد کشمیر حکومت نے کہا کہ صحافت مقدس پیشہ ہے اور ہمیشہ صحافیوں کا احترام کیا ہے ۔

غیر جانبدارانہ اور پیشہ وارانہ صحافت کا تقاضا ہے کہ حقائق کو حقائق کے تناظر میں ہی پیش کیا جائے مگرصحافت کے لبادہ میں بعض لوگ مخصوص لابیوں کیلئے کام کرتے ہیں جو مناسب نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تمام آئینی اداروں کا احترام کیا جانا چاہیے ، ایوان صدر ، اعلیٰ عدلیہ ، وزیراعظم اور اسمبلی قابل احترام آئینی ادارے ہیں جن کا احترام سب پر لازم ہے ۔

اختلاف رائے کی صورت میں صرف متعلقہ فورم پر ہی بات کی جانی چاہیے ۔ سینئر وزیر آزاد کشمیر حکومت نے آئینی اداروں سے استدعا کی کہ وہ بعض معاملات میں ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں پر صرف نظر کریں اور اگر کسی ممبر اسمبلی کی بات سے ناگوار صورتحال پیدا ہوئی ہے تو اس پر تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔درگزر اور معافی سے ہی بڑے پن کا مظاہرہ ہوتا ہے اور معزز آئینی اداروں کو اس سلسلہ میں ہماری گزارشات کو پذیرائی دینی چاہیے ۔ وقت اور حالات کا یہی تقاضا ہے ۔