اسلام آباد میں بارشیں نہ ہونے کے برابر؛ کیا اس کی وجہ میڑو بس منصوبے میں ہزاروں کی تعداد میں کاٹے گئے درخت ہیں؟

معروف صحافی رؤف کلاسرا نے میٹرو بس کیس نمٹانے پر چیف جسٹس سے سینیٹر مشاہد حسین کو دوبارہ سمن کرنے کا مطالبہ کر دیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ جون 15:09

اسلام آباد میں بارشیں نہ ہونے کے برابر؛ کیا اس کی وجہ میڑو بس منصوبے ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔08 جون 2018ء) گزشتہ روز سپریم کورٹ میں میٹرو بس سروس سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی تھی۔ دوران سماعت درخواست گزار مشاہد اللہ حسین اور اور شاکر اللہ عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے مشاہد حسین سید سے سوال کیا تھا کہ آپ نے میٹروبس پر کرپشن کا الزام لگایا تھا۔کیا آج بھی آپ کرپشن کے الزام پر قائم ہیں جس پرمشاہد حسین سید نے جوا ب دیا کہ میرامسئلہ ماحولیات سے متعلق تھا اورمیں نے سی ڈی اے کے ماسٹرپلان سے متعلق سوالات اٹھائے تھے، اب چونکہ میٹروبس بن چکی ہے لہذااس کیس کونمٹاناہی بہترہے۔

جس کے بعد عدالت نے میٹر بس کیس کو نمٹا دیا تھا اسی متعلق گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ سینیٹر مشاہد حسین سید نے چار سال پہلے عدالت کو ایک خط لکھا تھا جب اسلام آباد میں میٹر بس بن رہی تھی اور اس خط میں لکھا تھا کہ میٹرو بس منصوبے کی وجہ سے اسلام آباد میں درخت کاٹے جا رہے ہیں ،اور تین ہزار درخت کاٹ دئیے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

اس لیے آپ سی ڈی اے والوں کو کہیں کہ وہ وکئی ایسا روٹ تلاش کر لیں جس میں درخت نہ کاٹنے پڑیں۔اب مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ میں نے کرپشن کی تو کوئی بات ہی نہیں کی تھی میں نے تو ماحولیات کی بات کی تھی۔اور چیف جسٹس نے بھی مشاہد حسین کا آسانی سے جانے دیا۔ان کو اتنا آسانی سے نہیں جانے دینا چاہئیے تھا۔روف کلاسرا کا کہنا تھا کہ اب بہت بری ماحولیاتی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔

ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اسلام آباد میں اتنی گرمی ہو گی۔ اب اسلام آباد کا درجہ حرارت 41 سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔پہلے تو ایسے ہوتا تھا کہ یہاں دن میں گرمی ہوتی تھی اور رات کو بارش ہو جایا کرتی تھی۔رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ مشاہد حسین سید کی قیمت صرف ایک سینیٹر شپ تھی۔ان انہوں نے پارٹی بدل لی ہے۔۔مشاہد حسین نے 2014ء میں ایک تقریر کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میٹرو بس منصوبے میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہو رہی ہے اور اس منصوبے سے کوئی پیسے بنا رہا ہے۔لیکن مشاہد حسین نے اب انہی پیسہ بنانے والوں کی پارٹی کو جوائن کر لیا اس لے میرا چیف جسٹس سے مطالبہ ہے کہ وہ دوبارہ مشاہد حسین کو سمن کریں۔