رمضان المبارک میں مذہبی ہم آہنگی کی نئی مثال قائم

ہندو رکشہ ڈرائیور نے روزے داروں کو مفت سفری سہولیات دینا شروع کر دیں

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ جون 15:42

رمضان المبارک میں مذہبی ہم آہنگی کی نئی مثال قائم
نئی دہلی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 08 جون 2018ء) : بھارت میں مذہبی ہم آہنگی کی ایک اور مثال دیکھنے میں آ گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی دہلی کے علاقہ میں ایک 32 سالہ ہندو رکشہ ڈرائیور نے رمضان المبارک میں روزہ رکھنے والے مسلمانوں کو مفت سفری سہولیات دینے کا آغاز کر دیا ہے، پاراہلد نامی اس ہندو شہری ، جس کو لوگ مُکھیا اور گُرو بھی کہتے ہیں، نے روزے دار مسلمانوں کے لیے مفت سفری سہولیات کا آغاز کر دیا۔

پاراہلد کے اس اقدام سے مذہبی منافرت کو ختم کرنے میں کافی حد تک مدد حاصل ہو گی۔ 32 سالہ ہندو شہری نے اپنے آٹو رکشہ میں ایک نوٹ بھی لگا رکھا ہے جس پر تحریر ہے کہ ''روزے داروں کے لیے مفت سواری''۔ اپنے کام میں نقصان ہونے کے باوجود 32 سالہ شہری رمضان کے آغاز سے ہی روزانہ کی بنیاد پر 8 سے 10 مسلمان روزے داروں کو مفت سفری سہولیات فراہم کرتا ہے۔

(جاری ہے)

پاراہلد نے کہاکہ میں نے سوچا کہ اس رمضان گرمی کا کافی زور ہے ، ایسے میں اگر میں روزے داروں کی مدد کروں گا تو میں بھی تھوڑی نیکیاں کما لوں گا۔ چونکہ میں رکشہ چلا کر ہی گزر بسر کرتا ہوں لہٰذا میں روزے داروں کے لیے صرف اتنا ہی کر سکتا ہوں۔ پاراہلد کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے اور وہ گذشتہ چار سال سے رکشہ چلا کر ہی اپنا گزر بسر کر رہا ہے۔

پاراہلد کا کہنا ہے کہ تمام مذاہب ایک ہی ہیں، خدا بھی ایک ہی ہے ، اگر کوئی ہمیں مذہبی منافرت کی جانب راغب کرے تو ہمیں اس کی اصلاح کرنی چاہئیے۔ پاراہلد کے اس اقدام اور مسلمانوں کے لیے انسانیت کا جذبہ رکھنے نے سوشم میڈیا صارفین میں اسے خاصا مقبول کر دیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوانہ میں مسلمان پڑوسیوں کو ڈھول بجا بجا کر سحری میں جگانے والے سکھ شہری کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

اور تہار جیل میں قید 59 ہندو قیدیوں نے بھی اپنے 2 ہزار 299 مسلمان ساتھی قیدیوں کے ساتھ ماہ رمضان میں روزے رکھنا شروع کر دئے تھے۔ یہی نہیں بھارت کے ایک شہر میں بھی کچھ نوجوان افراد نے مل کر اسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ موجود رشتہ داروں کی سحری کے انتظام کا بیڑہ اُٹھایا ہو اہے۔ شیلندرا ڈوبے اور ان کے دیگر ساتھی رمضان المبارک میں سحر کے اوقات سے پہلے ہی اپنے بستروں سے نکل کر سحری بنانے میں مصروف ہو جاتے ہیں، ایسا اس لیے نہیں کہ انہوں نے روزہ رکھنا ہوتا ہے بلکہ اس لیے کہ انہوں نے اسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کے ساتھ آئے رشتہ داروں کو سحری پہنچانا ہوتی ہے۔