مشروبات کا استعمال کم کر کے دل کے دورے کے امکانات اور بلڈ پریشر میں اضافہ کو کم کیا جا سکتا ہے، طبی ماہرین کا دعویٰ

جمعہ جون 16:50

فیصل آباد۔8جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) ماہرین طب نے طویل تحقیق کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ جو افراد میٹھے مشروبات کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں ان میں بلند فشار خون کی بیماری زیادہ پائی جاتی ہے جبکہ ان مشروبات کا استعمال دل کے دوروں اور شریانوں کی تنگی کا بھی موجب بنتا ہے، اگر میٹھے مشروبات کا استعمال ترک یا اسے انتہائی کم کر دیا جائے تو نہ صرف بلڈ پریشر کو نارمل رکھا جا سکتا ہے بلکہ اس سے اچانک دل کے دوروں کے امکانات کو 8 فیصد اور شریانوں کی تنگی کی وجوہات کو 5فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے، طبی ماہرین نے انکشاف کیا کہ انہوں نے گذشتہ ایک سال کے دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے 900 مر د و خواتین حضرات جن کی عمریں 25سے 80سال کے درمیا ن تھیں پر تفصیلی تحقیق کی تو پتہ چلا کہ جو افراد عام خوراک کے ساتھ میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں بلڈ پریشر بہت زیادہ پایا جاتا ہے جبکہ اسی وجہ سے اچانک دل کے دوروں اور شریانوں کی تنگی کے امکانات میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، انہوںنے مشورہ دیا کہ عام خوراک کے ساتھ میٹھے مشروبات کا استعمال ترک یا کم کر کے خطر ناک بیماریوں سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔