سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کام ، کارکردگی ، بجٹ ، ملازمین کی تعداد اور منصوبہ جات کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا

جمعہ جون 18:01

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس چیئرپرسن کمیٹی روبینہ خالد کی زیر صدارت جمعہ کو پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ۔ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کام ، کارکردگی ، بجٹ ، ملازمین کی تعداد اور منصوبہ جات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔اجلاس میں سینیٹرز عبدالرحمن ملک، ڈاکٹر غوث محمد خان نیازی ، ڈاکٹر اشوک کمار ، میاں محمد عتیق شیخ ، فدا محمد ، مس رخسانہ زبیری کے علاوہ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

ایڈیشنل سیکرٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی جواد ناصر نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت کے 159 ملازمین ہیں جن میںسی142 مستقل ، 13 کنڑیکٹ اور باقی درجہ چہارم کے ملازمین شامل ہیں ۔

(جاری ہے)

چیئرپرسن کمیٹی روبینہ خالد نے ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں کنڑیکٹ ملازمین کی مکمل تفصیل کمیٹی کو فراہم کی جائے ، بجٹ کے حوالے قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالی سال 2018-19 میں ڈویلپمنٹ بجٹ 3046 ملین جبکہ نان ڈویلپمنٹ4075 ملین مختص کیا گیا ،ممبر ٹیلی کام مد ثرحسین نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک بھر میں فکس لائن2.97 ملین ، موبائل 7150 ملین ہیں جبکہ ٹیلی ڈنسٹی75.51 فیصد ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ پورے ملک میں 59.94 ملین براڈ بینڈ ،54.66 ملین موبائل صارفین ہیں ۔ آپٹیکل فائبر کی کل لمبائی 91549 کلو میٹر ہے ۔سال2013 سے 2017 تک ٹیلی کام سیکٹر کی کل آمدنی 15.35 بلین ڈالر تھی ، سرمایہ کاری 19.46 بلین ڈالر جبکہ انفراسٹرکچر 1.3 بلین ڈالر ہے ۔ پاکستان سے چین تک آپٹیکل فائبر کی لائن بچھائی جار ہی ہے جس کو متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا ۔

ممبر آئی ٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ آئی ٹی کی درآمدات 3.3 بلین ڈالر کی ہیں ۔ جبکہ فری لانسنگ سے 0.5 بلین ڈالر کی آمدنی ہو رہی ہے ۔ 1600 رجسٹرڈ کمپنیاں ہیں ، ملک بھر میں سالانہ اوسطاً 20 ہزار آئی ٹی گریجویٹس اور انجینئر فارغ التحصیل ہوتے ہیں ۔تھری جی اور فور جی لائسنس کی نیلامی کی مد میں 2 بلین ڈالر کا فائدہ حاصل ہوا ۔ ملک بھر میں ایک لاکھ سے زائد بچے فری لانسنگ سے پیسے کما رہے ہیں ۔

سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ ایسا سسٹم بنایا جائے جس میں صارفین کی ای میلز کوہیک نہ کیا جا سکے ۔ سمز کی بائیو میٹرک کے حوالے سے ممبر ٹیلی کام نے کمیٹی کو بتایا کہ نجی کمپنی کی مدد سے 114.9 ملین صارفین کی بائیو میٹرک تصدیق ہو چکی ہے جس پر 8 ارب کی لاگت آئی ۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ سوشل میڈیا پرجعلی اکائونٹ کو کنڑول کرنے کیلئے وزارت کی طرف سے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں آئندہ اجلاس میں قائمہ کمیٹی کو تفصیلی آگاہ کیا جائے ۔چیئرپرسن کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ سائبر کرائم اور ای کامرس کے حوالے سے اگلے اجلاس میں تفصیل فراہم کی جائے ۔ وزارت آئی ٹی کی زیر نگرانی ورچوئل یونیورسٹی کی افادیت کیا ہے اگلے اجلاس میں اس کی مکمل تفصیل فراہم کی جائے ۔