25جولائی کو ہونیوالے عام انتخابات کیلئے صوابی میں بھی کاغذات نامزدگی جمع کرانے کاسلسلہ جاری

مسلم لیگ ن ، تحریک انصاف ، عوام نیشنل پارٹی ، ایم ایم اے نے اپنے مضبوط امیدوار میدان میں اُتاردیے

جمعہ جون 18:53

صوابی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) 25جولائی کو ہونیوالے عام انتخابات کیلئے صوابی میں بھی کاغذات نامزدگی جمع کرانے کاسلسلہ جاری ہے ، اس سلسلے میں مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر و سابق ایم پی اے شیرازخان نے حلقہ پی کے 43 ،سابق ایم پی اے بابرسلیم نے پی کے 44 ،اعجازاکرم باچانے پی کے 47 جبکہ صوبائی نائب صدر سجاد خان نے این اے 18 اور عمران اللہ نے این اے 19 کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرادئیے،،پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سابق ایم این اے عثمان خان ترکئی نے این اے 19 جبکہ سابق صوبائی وزیرصحت شہرام خان ترکئی نے پی کے 47 اور سابق ایم پی اے محمد علی نے پی کے 46 اور سابق ایم پی اے عبدالکریم نے پی کے 45 کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرادئیے ،عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے ضلع ناظم امیر رحمن نے حلقہ پی کے 47 ، ایاز شعیب نے پی کے 46 ، امجد خان نے پی کے 45 ،گل زمین شاہ نے پی کے 44 جبکہ ضلعی جنرل سیکرٹری اسلام خان نے این اے 18 اور وارث خان نے این اے 19 کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرادئیے ، جمعیت علماء اسلام ف کی جانب سے ایم ایم اے ضلع صوابی کے صدر مولانا عطاء الحق درویش نے این اے 18 ،اشفاق اللہ خان نے این اے 19 ،سجاد جدون اور مولانا روشن زیب نے پی کے 43 ،مولانا قمرزمان نے پی کے 44اور مولانا محمد امین دوست نے پی کے 45 کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرادئیے ، پاکستان پیپلزپارٹی اورقومی وطن پارٹی کی جانب سے اُمیدواروں کے اعلان میں تاخیر ہونے کے باعث تینوں پارٹیوں کے اُمیدواروں سمیت سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسدقیصر نے ابھی تک کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائی ہے ، ایم ایم اے میں شامل دو بڑی جماعتوں جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے مابین ایک سیٹ پر اختلاف کے باعث ابھی تک اُمیدواروں کے نام فائنل نہ ہوسکے ،،جماعت اسلامی کے ضلعی امیر محمود الحسن کے مطابق جماعت اسلامی ضلع کے تمام حلقوں پر اپنے اُمیدوار کھڑا کرینگے ، دوسری طرف ایم ایم اے کے ضلعی امیر مولانا عطاء الحق درویش نے بتایا کہ فارمولہ طے ہونے کے بعد ایک قومی اور ایک صوبائی جماعت اسلامی کے حصے میں آتی ہے لیکن جماعت اسلامی کی جانب سے مزید ایک سیٹ دینے کا مطالبہ کیا گیا جس کے باعث ہم نے اس مسئلے کو صوبائی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے رکھ دیا ہے اور اُمید ہے کہ مسئلہ جلدحل ہوجائے گا ، دوسری جانب پی ٹی آئی میں بھی اختلافات کھل کر سامنے آئی ہے قومی وطن پارٹی کے سابق ایم پی اے عبدالکریم کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے بعد حلقہ پی کے 45 میںاُنہیں ٹکٹ دینے کے بعدپی ٹی آئی تحصیل لاہور کے سینئر رہنماڈاکٹر فاروق نے اس کے مدمقابل الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا ،ایک اور سینئر رہنما شاہ ولی نے حلقہ پی کے 44 کیلئے کاغذات جمع کرادئیے ،شاہ ولی کا کہنا تھا کہ اگر سپیکر اسدقیصر اس حلقے سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں تو انہیں خوش آمدید کہیں گے اگر اس کے علاوہ کسی اور کو ٹکٹ جاری کیا تو ہم اپنے فیصلوں میں آزاد ہونگے ،اسی طرح حلقہ پی کے 43کیلئے بھی نعمت خان نے کاغذات نامزدگی حاصل کئے ،جبکہ ضلع میں پی ٹی آئی نظریاتی کے نام سے ایک گروپ بھی پی ٹی آئی کے سابق اُمیدوار یوسف علی کی سربراہی میں بن چکا ہے ،جس نے بھی ضلع کے تمام حلقوں پر اپنے اُمیدوار کھڑا کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔