ارب روپے کا بجٹ پیش کرنا اعزاز ہے،سینئرصوبائی وزیراکبرتابان

جمعہ جون 19:37

گلگت۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) سینئر صوبائی وزیر گلگت بلتستان حاجی اکبر تابان نے کہاہے کہ صوبائی حکومت کی طویل جدوجہد کے بعد 63ارب روپے کا بجٹ پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہورہا ہے ترقیاتی منصوبوں میں صوبائی حکومت نے ماضی کا 70سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے اس وقت گلگت بلتستان میں 8کھرب سے زائد کے منصوبے چل رہے ہیں اورتمام امورپر قانون سازی کے اختیارات گلگت بلتستان اسمبلی کو منتقل ہو چکے ہیں نجی ہوٹل میں پوسٹ بجٹ کانفرنس کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر اکبر تابان نے کہاکہ ہماری جدوجہد کے نتیجے میں پانچ سالوں تک جی بی کو ٹیکس فری زون قراردیا ہے ملازمین کی کم سے کم تنخواہ کو بجٹ میں شامل کیا ہے جو کہ وفاقی پالیسی کے مطابق ہوگی اور آئندہ سے ماہوار بنیادوں پر تنخواہ ملے گی گلگت بلتستان میں سیلاب اورقدرتی آفات کے حوالے سے فنڈز کو ریگولرائز کیا ہے پنجاب حکومت کی جانب سے 1ارب سے زائد کی امدادی رقم بھی ترقیاتی امور پر صرف کی جائیگی جس سے عام آدمی کے مسائل میں کمی آئیگی۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ بجٹ عوام دوست ہے جس پر تمام ادارے خراج تحسین کے مستحق ہیں اپوزیشن جماعتوں نے جوطوفان بدتمیزی برپا کردی وہ نہایت افسوس ناک ہے اپوزیشن لیڈر کو جی بی آرڈر 2018کے اجلاس کے موقع پر بھی وزیراعظم کی ہدایات پر تقریر کرنے کا موقع دیاگیا تھا مگر انہوں نے علاقائی رسومات اورمہمان نوازی کے آداب کوبھی جوتی پر رکھ دیا۔ہماری کوشش ہے کہ بجٹ کے حوالے سے اپوزیشن کو بھی ساتھ لے کر چلے اگر انہوںنے اپنے رویہ میں تبدیلی نہیں لائی تو ہمارے پاس بجٹ پاس کرنے کیلئے مطلوبہ اکثریت موجود ہے بغیرکسی لیت و لعل کے بجٹ کو پاس کرینگے پوسٹ بجٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعمیرات ڈاکٹر اقبال نے کہا کہ عوام دوست بجٹ پیش کرنے پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں پرویز مشرف دور کے اختتام میں جی بی کابجٹ 7ارب 20کروڑ تھا پیپلزپارٹی نے پورے پانچ سالوں میں صرف 80کروڑروپے کا روپے کا اضافہ کرتے ہوئے 8ارب کردیا مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت نے اپنے پہلے سال میں ہی 9ارب کردیا دوسرے سال میں 15ارب جبکہ تیسرے سال میں 17ارب کردیا پی ایس ڈی پی کے منصوبوں میں گزشتہ سال 3ارب کے منصوبے تھے اس سال 8ارب کردیا ہے اور واحد گلگت بلتستان ہے جہاں کا پی ایس ڈی پی منصوبوں کا پرنسپل اکائونٹنگ آفیسر چیف سیکرٹری ہے جس کے بعد ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتارمیں تیزی آئے گی اس وقت صرف محکمہ برقیات کے زیر انتظام 124میگاواٹ کے منصوبوں پر کام جاری ہے جو جلد مکمل ہو جائیں گے۔

اس موقع پر مشیر اطلاعات شمس میر نے کہا کہ کسی بھی حکومت کی ترقیاتی کا معیار ترقیاتی منصوبوں اورترقیاتی بجٹ کی خرچ پر ہوتا ہے صوبائی حکومت نے گزشتہ دوسالوں میں ترقیاتی بجٹ 100فیصد خرچ کر کے ایک ریکارڈ قائم کردیا ہے پنجاب حکومت کے بعد گلگت بلتستان میں انڈومنٹ فنڈ پایا جاتا ہے جسے اب تین اداروں سے بڑھا کرپانچ کردیا جائیگا محکمہ صحت میں ڈاکٹروں کی بڑی کھیپ باقاعدہ ٹسٹ انٹرویو کے بعد سلیکٹ ہوئی ہے محکمہ تعلیم کو تعلیم برائے نیلام سے تعلیم برائے ترقی پر لے آئے ہیں کینسر،دل کے امراض کی ہسپتا ل کے علاوہ موبائل ہسپتال چلنا شروع ہوگئی ہے ہمارے لئے یہ اعزاز سے کم نہیں کہ گزشتہ تین سالوں میں گلگت بلتستان میں سب کم ایف آئی آر کا اندراج ہوا ہے جس کا کریڈٹ سیف سٹی منصوبے کو جاتا ہے گزشتہ حکومت نے گندم سبسڈی کی مد میں 32ارب کا قرضہ چڑھایا تھا جسے اداکرنے کیلئے وفاقی حکومت کے ساتھ راستہ اور طریقہ کار نکالا ایفاد منصوبے کے تحت لاکھوں کنال زمین کو سیراب اور آباد کر کے خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا۔

گلگت بلتستان آرڈر کے بنیاد پر سٹیٹ بنک آف پاکستان کا ریجنل آفس بھی کھل جائیگا انہوںنے کہا کہ حافظ حفیظ الرحمن کے امن پسند ترقی پسند اور خوشحالی پسند ویژن کے خلاف اپوزیشن کے مہم کے مذمت کرتے ہیں انشاء اللہ بجٹ بھی جی بی آرڈر 2018کی طرح کامیاب ہوگا۔