سیکریٹری بلدیا ت سندھ نے پی ایس 104میں ہو نیوالے تر قیا تی کا مو ں سے متعلق نگراں وزیر اعلیٰ کو رپو ر ٹ پیش کر دی

جمعہ جون 19:49

کرا چی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) سیکریٹری بلدیا ت حکومت سندھ نے پی ایس 104میں ہو نے والے تر قیاتی کا مو ں سے متعلق نگراں وزیر اعلیٰ سندھ کو رپو ر ٹ پیش کر دی ہے جس میں پی ایس 104میں تر قیا تی کا م بغیر ٹینڈر کر وانے کے الزامات کی سختی تر دید کر تے ہو ئے کہا ہے کہ پی ایس 104 میں تما م تر قیاتی کا مو ں کا ٹینڈر نو مبر 2017میں ہو اتھا اور جس کے لئے سپرا رو لز کے مطا بق ٹھیکیدارو ں سے ٹینڈر طلب کئے گئے اور پرو کیو ر منٹ کمیٹی کی منظو ر ی سے یہ ٹھیکے میسرز حا جی امیر اینڈ برا درز کو دیا گیا جسکے خلا ف دو سر ے ٹھیکیدارعدا لت میں چلے گئے اور وہا ں سے سٹے آرڈر لے لیا وہ سٹے آرڈرعدا لت عالیہ نے میسرز حا جی امیر اینڈ برا درز کے حق میں بتا ر یخ 08-05-2018کو Vacateکیا جسکے بعد ورک آرڈر جا ر ی کیا گیا اور اور 20دن کے تر قیاتی کا م کے بعد ابھی کا م رکا ہو ا ہے اسکی وجہ کے ایم سی کی جا نب سے رو ڈ کی این او سی نہ لینے کی وجہ بتائی گئی ہے۔

(جاری ہے)

سیکریٹری بلدیات نے اس با ت کی یقین دہا نی کرا ئی ہے کہ بغیر ٹینڈر اور سپرا رو لز کے خلا ف کسی بھی تر قیاتی کا م کی اجا زت نہیں دی جا سکتی۔اس طر ح کے الزاما ت من گھڑ ت اور بے بنیا د ہیں۔واضح رہے کہ نگرا ں وزیر اعلیٰ سندھ فضل الر حمان سے ملا قا ت کے دورا ن جی ڈی اے کے وفد میں عر فا ن اللہ مر وت نے شکا یت کر تے ہو ئے الزا م لگا یا تھا کہ پی ایس 104 میں جو تر قیاتی کا م ہو رہے ہیں وہ بغیر کسی ٹینڈر کے من پسند ٹھیکدا ر سے ایک مخصو ص سیا سی پا ر ٹی کو فا ئدہ پہنچا نے کیلئے کرا ئے جا رہے ہیں۔