پنجاب میں نگران وزیراعلیٰ کی تقرری میں وزیر اعلیٰ ، اپوزیشن لیڈر اور پارلیمانی کمیٹی ناکام رہی ، لیاقت بلوچ

آئینی اعتبار سے پارلیمانی کمیٹی کے تجویز کردہ ناموں سے نگران وزیراعلیٰ کی تقرری الیکشن کمیشن کی صوابدید ہے توقع ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری غیر جانبدارانہ انتخابات میں اپنا کردار ادا کریں گے،سیکرٹری جنرل متحدہ مجلس عمل

جمعہ جون 19:58

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) جماعت اسلامی پاکستان اور متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ پنجاب میں نگران وزیراعلیٰ کی تقرری میں وزیر اعلیٰ ، اپوزیشن لیڈر اور پارلیمانی کمیٹی ناکام رہی ۔ آئینی اعتبار سے پارلیمانی کمیٹی کے تجویز کردہ ناموں سے نگران وزیراعلیٰ کی تقرری الیکشن کمیشن کی صوابدید ہے ۔ توقع ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری غیر جانبدارانہ انتخابات میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔

انہوںنے کہاکہ متحدہ مجلس عمل کے چاروں صوبائی پارلیمانی بورڈز نے اپنی سفارشات تیار کرلی ہیں ۔ مرکزی دس رکنی پارلیمانی بورڈ ان سفارشات کی روشنی میں حتمی فیصلہ کرے گا اور ٹکٹ جاری کیے جائیں گے۔ کسی بھی نشست پر اختلاف کی صورت میں آخری فیصلہ متحدہ مجلس عمل کے سربراہوں پر مشتمل سپریم کونسل کا ہوگا ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہار انہوںنے متحدہ مجلس عمل لاہور کے عہدیداران سے خطاب اور صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کیا۔

دریں اثنا لیاقت بلوچ نے جامع مسجد الرحیم گلبرگ میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ماہ رمضان اتحاد امت اور قرآن و سنت کے غلبہ کا پیغام ہے ۔ ماہ صیام کا آخری عشرہ پر نور لمحات اور بابرکت ساعتیں ہیں ۔ امت کے لیے اللہ کے احکامات کی پابندی کی طرف لوٹ آنا کامیابی کا راستہ ہے ۔ دینی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل پاکستان میں نظام مصطفیٰؐ کے قیام اور عوام کو ظلم و جبر ، ذلت و رسوائی کی دلدل سے نکالنے کی جدوجہد کا نام ہے ۔

پنجاب بڑا اور دینی محبت والا صوبہ ہے لیکن مفاد پرست مقتدر طبقوں نے پنجاب کی سیاست کو بدنامی دی ہے ۔ اسلامی اور اہل قیادت پنجاب کو سیاسی محاذ پر عزت و وقار دلائے گی ۔ لیاقت بلوچ نے پیر اعجاز ہاشمی ، علامہ شاہ اویس نورانی ، علامہ عارف حسین واحدی ، مولانا عبدالغفور حیدری ، میاں مقصود احمد سے انتخابات کی صورتحال پر تبادلہ خیال بھی کیا ۔