مقبوضہ کشمیرمیں یوم کشمیر اور یوم القدس کے موقع پر زبردست بھار ت اوراسرائیل مخالف مظاہرے اور ریلیاں

کشمیر اور فلسطین کے تنازعات کے حل پر زور

جمعہ جون 20:31

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں آج یوم کشمیر اور یوم القدس کے موقع پر پورے مقبوضہ علاقے میں زبردست بھارت اور اسرائیل مخالف مظاہرے اور احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ بھارتی فوجیوں کی طرف سے مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال سے متعدد افراد زخمی ہوگئے اور کئی کو گرفتار کرلیاگیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ دن منانے کی کال سید علی گیلانی،، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دادوں کے مطابق دونوں تنازعات کے حل کیلئے اپنے وعدے پورے کرنے کی غرض سے عالمی ادارے اور عالمی برادری پردبائو بڑھانے کیلئے دی تھی۔

سرینگر،، بڈگام، ماگام، گاندربل ،شوپیاں، اسلام آباد،، کوکرناگ، پلوامہ ، کولگام، کپواڑہ ، بانڈی پورہ،بارہمولہ اور دیگر علاقوں میں لوگ آزادی کے حق میں اور بھارت اور اسرائیل کے خلاف فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔

(جاری ہے)

مظاہرین کی قیادت حریت رہنما محمد یاسین ملک ، محمد یوسف نقاش، مسرور عباس، مختار احمد وازہ، شبیر احمد ڈار، جاوید احمد ،امتیاز احمد ریشی ،مولوی بشیر عرفانی ، امتیاز احمد شاہ ، عمر عادل ڈار اور سید امتیاز حیدر کررہے تھے ۔

بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے سرینگر،، اسلام آباد قصبے اور دیگر مقامات پر مظاہرین کو منتشرکرنے کیلئے آنسو گیس اور پلیٹ گنز کا بے دریغ استعمال کیا جس کے بعد مظاہرین اور بھارتی فورسز کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی جن میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس نے اسلام آباد قصبے میں مظاہروں کے دوران کئی نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔

سید علی گیلانی نے جنہیں بھارتی پولیس نے اپنی رہائش گاہ سے باہر آنے اور نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے سرینگر کے علاقے حضرت بل کی طرف جانے سے روکا ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ کشمیری بھارتی تسلط سے آزادی کے حصول تک اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ کٹھ پتلی انتظامیہ حریت رہنمائوں کا سیاسی طور پر مقابلہ کرنے کی بجائے انہیں جھوٹے الزامات کے تحت نظر بند کررہی ہے ۔

انہوں نے فلسطینیوں اور کشمیریوں کی نسل کشیُ پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کشمیر اور فلسطین کے تنازعات کو دونوں خطوں کے عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن طور پر حل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ میرواعظ عمر فاروق نے جامع مسجد سرینگر میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے افسوس ظاہرکیا کہ بھار گزشتہ تیس برس کے دوران بالعموم اور گزشتہ چار سال کے دوران بالخصوص ظلم و جبر ، طاقت کے وحشیانہ استعمال اور بے گناہ کشمیریوں کی ٹارگٹ کلنک کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔

تاہم انہوں نے کہا کہ کشمیری نوجوانوں کے جدوجہد آزادی کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے اب بھارتی فوجی جنرل بھی اس حقیقت کا اعتراف کررہے ہیں کہ تنازعہ کشمیر کو فوجی طاقت کے ذریعے حل نہیں کیاجاسکتا۔ انہوں نے عالمی برادری خاص طور پر امت مسلمہ پر زور دیا کہ وہ نہتے فلسطینی عوام کو اسرائیلی فوجیوں کے ظلم و بربریت سے بچانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

محمد یاسین ملک نے چرار شریف بڈگام میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر اور فلسطین کے عوام عزت و احترام اور آزادی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تاہم عالمی برادری انہیں ان بنیادی انسانی خواہشات سے محروم رکھ رہی ہے۔ ادھر مشترکہ حریت قیادت کی طرف سے تیار کی گئی ایک قیادت پوری مقبوضہ کشمیر کی تمام مساجد، امام بارگاہوں اور درگاہوں میں متفقہ طور پر منظور کی گئی جس میں کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کو اسکے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیاگیا ہے ۔