موضع فتح کوٹ بستی اسلام آباد میں گزشتہ 15دنوں میں خسرہ سے 20بچوں کی ہلاکت کی خبر حقائق کے منافی ہے‘بستی میں گزشتہ 6ماہ کے دوران مختلف بیماریو ں سے 13بچوں کی اموات ہوئیں، سی ای او ہیلتھ

جمعہ جون 21:18

لاہور۔8جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی بہاول نگرڈاکٹر عبدالعزیز شیخ نے موضع فتح کوٹ بستی اسلام آباد میں گزشتہ 15دنوں میں 20بچوں کی خسرے سے ہلاکت کی خبروں کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قراردیتے ہوئے کہاہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق بستی اسلام آباد میں پچھلے 6ماہ کے عرصہ میں 13اموات ہوئیں اور ان بچوں کی اموات مختلف بیماریوں تیز بخار، ڈائریا وغیرہ کی وجہ سے ہوئی ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی نے اس یونین کونسل میں 10آؤٹ ریچ ٹیمیں تشکیل د ی ہیں جو کہ 6ماہ سے 5سال تک کے تمام بچوں کو خسرہ کی بوسٹر ڈوز دے رہی ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق بستی اسلام آباد میں موجود صرف 7بچے بیمار پائے گئے جن کو فور ی طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بہاول نگر شفٹ کیا گیا تو ان میں سے ایک بچے کو معمولی بخار، تین بچوں کو ہائی گریڈ فیور(تیز بخار) اور تین بچیSuspected Measle (مشتبہ خسرہ)تشخیص ہوئے۔

(جاری ہے)

سی ای او ہیلتھ نے بتایاکہ اس واقعہ کے حقائق کی تہہ تک پہنچنے کے لئے ان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں DHOبہاول نگرڈاکٹر صغیر احمد چوہدری، ڈسٹرکٹ سرو یلینس کوارڈینیٹرڈاکٹر کلیم راجہ، DDHOبہاول نگر ڈاکٹر راؤ خالد جاوید، ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ ویکسی نیشن بہاول نگر اللہ رکھا خاں شامل تھے اس پانچ رکنی کمیٹی نے بستی اسلام آباد موضع فتح کوٹ کا سروے کیا اور جائزہ اور مکمل سروے رپورٹ تیار کی اورمذکورہ بستی میں بچوں میں بیماری سے متعلق ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کو بروقت رپورٹ ارسال نہ کرنے کی پاداش میں محکمہ صحت کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ ویکسی نیشن تحصیل بہاول نگر، اور2متعلقہ ویکسینیٹرز کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے جبکہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تحصیل بہاول نگر اور سکول ہیلتھ نیوٹریشن سپروائزر سے وضاحت طلب کر لی گئی ہے۔

دریں اثناء ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب ڈاکٹر منیر احمد نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت ، یونیسیف اور محکمہ کے صوبائی ماہرین پر مشتمل خصوصی ٹیم بھی ہنگامی بنیادوں پر بہاولنگر کا دورہ کر کے صورتحال کا جائزہ لے گی اور حکومت کو رپورٹ پیش کرے گی۔

متعلقہ عنوان :