18کے انتخابات میں مجلس عمل کتاب کے نشان پر انتخاب لڑے گی، کرپٹ عناصر اور طبقہ اشرافیہ کو شکست دے گی، لیاقت بلوچ

کراچی کے عوام کواب بھتہ خوری ، بوری بند لاشوں اور تعصب و نفرت کی سیاست سے نجات ضرور ملے گی، لانڈھی میں عوامی دعوت افطار سے خطاب

جمعہ جون 21:30

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی جنرل سکریٹری و متحدہ مجلس عمل پاکستان کے جنرل سکریٹری لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ2018کے انتخابات میں مجلس عمل کتاب کے نشان پر انتخاب لڑے گی اور کرپٹ عناصر اور طبقہ اشرافیہ کو شکست دے گی ،،کراچی اگر تبدیلی کے لیے کھڑا ہوجائے تو پورے ملک کے اندر تبدیلی یقینی ہوگی ، کراچی کے عوام کواب بھتہ خوری ، بوری بند لاشوں اور تعصب و نفرت کی سیاست سے نجات ضرور ملے گی۔

پاکستان اسٹیل مل قومی ادارہ ہے مجلس عمل اسے ڈوبنے نہیں دے گی بلکہ اسے اس کی اصل حالت میں بحال کرے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی لانڈھی زون کے تحت حسینی چوک لانڈھی میں منعقدہ عوامی دعوت افطار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔عوامی دعوت افطار سے نائب امیر جماعت اسلامی کراچی محمد اسلام ،امیر جماعت اسلامی ضلع بن قاسم عبد الجمیل امیر زون لانڈھی مسعود اختر دیگر نے بھی خطاب کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر جامع مسجد کے امام و خطیب حضرت مولانا طارق شامزئی ،جے یوآئی کے رہنما مولانا کلیم اللہ ، جمعیت علمائے اسلام کے مولانا احسان اللہ ٹکروی اور دیگر بھی موجود تھے۔اہلسنت والجماعت کے مولانا سلیمان نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی۔۔لیاقت بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ماہ رمضان کا اصل پیغام اتحاد امت ، غلبہ اسلام اور قرآن کو اپنی ذات ، معاشرے ور ریاست کے نظام میں نافذ کرنا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس ماہ رمضان میں آزادی کی نعمت عطا کی اور 27شب کو یہ ملک وجود میں آیا۔ ملک کے اندر بے شمار وسائل موجود ہیں۔۔کراچی اور گوادر کی بندرگاہیں ہمیں ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار کرسکتی ہے اور ملک عالمی سطح پر عالم اسلام کی قیادت کرسکتا ہے۔ بد قسمتی سے طبقہ اشرافیہ کے مٹھی بھر افراد نے 22کروڑ افراد کو اپنا غلام بنایا ہوا ہے اور عوام بدحالی سے دوچار ہیں۔

پانچ سال تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں قائم رہیں لیکن لیکن عوام کے حصے میں محرومیاں اور پریشانیاں ہی آتی ہیں۔ملک کے عوام کو تعلیم اور صحت کی سہولت میسر نہیں ، لوڈ شیڈنگ نے زندگی اجیرن بنادی ہے ، مزدور اور کسان کی حالت نہیں بدلی ، اسٹیل مل اور دیگر قومی اداروں کی بحالی کے لیے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ کراچی ملک کا معاشی حب ہے لیکن یہاں محبتوں کو نفرتوں اور تعصبات میں بدل کر اور شہر کے لوگوں سے زندگی کا سکون چھین لیا گیا ہے۔

عوام بجلی اور پانی کے شدید بحران سے دوچار ہیں۔ کراچی کے عوام کو بنیادی ضروریات تک میسر نہیں ، شہر میں گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک میں جمہوری عمل مستحکم نہیں ہے کیونکہ عوام کو انتخابا ت میں کامیاب ہونے والی حکومتوں نے کچھ نہیں دیا۔ نواز شریف ووٹ کو عزت دینے کی بات کررہے ہیں وہ عوام کو جواب دیں آپ کتنی مرتبہ اسمبلی میں گئے ،آپ نے خود پارلیمنٹ اور جمہوریت کو کتنی اہمیت دی ملک کے اندر طبقہ اشرافیہ نے سیاست اور جمہوریت کوداغ دار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالم اسلام بے شمار مسائل سے دوچار ہے ، فلسطینی مسلمان قبلہ اول کی آزادی کی جدوجہد کررہے ہیں اور کشمیری عوام بھار ت کے غاصبانہ قبضے سے نجات کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ کشمیر مسئلے پر جب تک قومی کشمیرپالیسی نہیں بنتی او رعالمی محاذ پر مسئلہ کشمیر کا مقدمہ نہیں لڑا جائے گا یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ حکمرانوں کو اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں میں موروثی نظام چل رہا ہے موروثی سیاست اور کھوٹے سکوں کو جمع کر کے تبدیلی نہیں آسکتی ،حقیقی تبدیلی اللہ کے دین کو نافذ کر کے آئے گی۔متحدہ مجلس عمل ملک کے اندر اسلامی نظام نافذ کرے گی اور ملک کے اندر سیکولر اور لبرل لابی کی سازشوں کو ناکام بنائے گی۔محمد اسلام نے کہاکہ رمضان مسلمانوں کو نظم و ضبط کی تربیت دیتا ہے ، قرآن اور اللہ سے تعلق کو مضبوط بنا نا ہے ، رمضان میں لیل? القدر ہے جس میں قرآن نازل ہوا اور 27ویں شب جو ہی پاکستان وجود میں آیا۔

ہمارا فرض ہے کہ اس ملک کو اس مقصد وجود کے مطابق ڈھالا جائے اور ملک کے اندر نظام مصطفی ? نافذ کرنے کی جدوجہد کی جائے۔ مجلس عمل ملک میں حقیقی طور پر اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد کررہی ہے۔مجلس عمل کو ملک کو اس کے قیام کے مقاصد سے ہم آہنگ کرے گی۔عبد الجمیل نے کہاکہ ملک اور قوم اس وقت نہایت سنگین صورتحال سے گزررہے ہیں ،عوام کے مسائل صرف دیانت اور امانت دار قیادت ہی کرسکتی ہے ، عوام پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انتخابات میں ایسی قیادت کو منتخب کریں جو کرپشن سے پاک اور اہل ہو ،عوام کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو ، عوام کے لیے مجلس عمل کے امیدوار بہترین آپشن ہیں جن کو ایوانوں میں پہنچایا جائے۔