کے ایم سی کے زیر اہتمام تاریخی عمارات اور پارکوں کو ان کی اصل حالت میں بحال کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں، میئر کراچی وسیم اختر

جمعہ جون 21:30

کے ایم سی کے زیر اہتمام تاریخی عمارات اور پارکوں کو ان کی اصل حالت میں ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کے ایم سی کے زیر اہتمام تاریخی عمارات اور پارکوں کو ان کی اصل حالت میں بحال کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور محکمہ انجینئرنگ کو ہدایت کی ہے کہ ان عمارات اور پارکوں کے اصل ڈیزائن میں کسی بھی قسم کی ردوبدل نہ کی جائے کیونکہ یہ کراچی کی نہ صرف پہچان ہیں بلکہ اس شہر کا تاریخی ورثہ ہیں، یہ بات انہوں نے کے ایم سی بلڈنگ کی تزئین و آرائش کے سلسلے میں کئے جانے والے کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے کہی، اس موقع پر چیئرمین پارکس کمیٹی خرم فرحان، سینئر ڈائریکٹر ٹیکنیکل ایس ایم شکیب، ڈائریکٹر میڈیا مینجمنٹ علی حسن ساجد اور دیگر افسران بھی ان کے ہمراہ تھے، میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی بلڈنگ کواس کی اصل حالت میں بحالی کا کام جاری ہے اور اس میں ہرممکن یہ احتیاط برتی گئی ہے کہ بیرونی یا اندرونی طور پر کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی نہ کی جائے، اس عمارت کا گھنٹہ گھر جو ایک طویل عرصے سے خراب تھا اسے درست کیا گیا ہے اور اب وہ صحیح حالت میں کام کررہا ہے، شہر کے دیگر گھنٹہ گھروں کو بھی جلد درست کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ فریئر ہال، خالقدینا ہال، ایمپریس مارکیٹ، ڈینسو ہال، لی مارکیٹ، مچھی میانی مارکیٹ، اسپنسر آئی اسپتال، جذام اسپتال منگھوپیر، سوبھراج میٹرنٹی اسپتال، میری ویدر ٹاور، باغ ابن قاسم، جھیل پارک، عزیز بھٹی پارک، سفاری پارک اور دیگر تاریخی اہمیت کے حامل عمارتوں اور پارکوں پر ترقیاتی کام جاری ہیں اور بہت جلد ان تمام عمارتوں اور پارکوں کی اصل حالت کو بحال کرلیا جائے گا، میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی بلڈنگ تاریخی اہمیت کی حامل ہے اور کے ایم سی کے دفاتر جب سوک سینٹر سے یہاں منتقل ہوئے تو اس عمارت کی حالت انتہائی خراب تھی، اب اس عمارت کی تاریخی حیثیت کو بحال کرنے کے لئے تزئین و آرائش کا کام آخری مراحل میں ہے اور اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ اس کی خوبصورتی اور دلکشی متاثر نہ ہو، اس موقع پر میئر کراچی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 14 دسمبر 1895 ء کو عمارت کی تعمیر کے لئے اس جگہ کو منتخب کیا گیا ، 1915 ء میں اس عمارت کی بنیادوں کا کام مکمل کیا گیا ، عمارت کا سپر اسٹرکچر اور ایسٹ ونگ کے فائونڈیشن کا کام 5 نومبر1927 ء کو مکمل کیا گیا جبکہ عمارت کی تعمیر 31 دسمبر 1931 ء کو مکمل کی گئی ، تعمیر مکمل ہونے کے بعد 7 جنوری 1932 ء کو شہریوں کی موجودگی میں اس عمارت کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا، ابتداء سے ہی یہ عمارت بلدیہ کے مرکزی دفتر کے طور پر استعمال ہوتی رہی ،،کراچی سے منتخب ہونے والے میئرز کا یہی مرکزی دفتر رہا اور اسی عمارت میں واقع کونسل ہال میں کراچی کے ترقیاتی منصوبوں اور دیگر شہر ی امور کے فیصلے منتخب کونسل کے ذریعے ہوتے رہے ، میئرکراچی نے اس موقع پر عمارت کے سامنے لگائے جانے والی لائٹوں کا معائنہ کیا اور ہدایت کی کہ انہی پولز اور لائٹس کو دوبارہ مرمت کرکے لگایا جائے جو عمارت کی تعمیر کی بعد نصب کئے گئے تھے، میئر کراچی نے کہا کہ شہر کے تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے کا مقصد اسے آئندہ نسل تک منتقل کرنا ہے تاکہ وہ شہر کی تہذیب و ثقافت سے واقف ہوسکیں، ملک اور بیرون ملک سے کراچی آنے والے افراد کو بھی کراچی کے ماضی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے۔

متعلقہ عنوان :