ریحام خان نے اپنی کتاب کی مندرجات قسطوں میں شائع کرنے کی اجازت دی ہے ،ْ ہم سب نامی ویب سائٹ کا دعویٰ

عمران خان کے نہایت قریبی دوست کو ایک لڑکی کا اسقاط حمل بھی کروانا پڑا ،ْجس کا نام کتاب میں موجود ہے ،ْ بہت سی لڑکیاں اس چکر میں خوار ہوتی تھیں ،ْ ریحام کا الزام عائشہ گلالئی زیادہ سیریس ہو گئی تھی ،ْ شادی کے خواب دیکھنے لگی تھی ،ْ پی ٹی آئی نے میرے پیچھے پرائیویٹ انویسٹگیٹرز لگائے ہوئے ہیں ،ْمیرا مقصد اس کتاب کے ذریعے اس مافیا کے پیچھے کارفرما بین الاقوامی سازش کو بے نقاب کرنا بھی ہے ،ْ پنکی پیرنی کی حرکات و سکنات کا قندیل بلوچ کو علم تھا ،ْگفتگو

جمعہ جون 21:37

ریحام خان نے اپنی کتاب کی مندرجات قسطوں میں شائع کرنے کی اجازت دی ہے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) ہم سب نامی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ریحام خان نے ان کو اپنی کتاب کی مندرجات قسطوں میں شائع کرنے کی اجازت دی ہے جس نے جمعہ کو پہلی قسط شائع کی ہے۔ ریحام کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی میں عورتوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے ایک نہایت قریبی دوست کو ایک لڑکی کا اسقاط حمل بھی کروانا پڑا جس کا نام کتاب میں موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا بہت سی لڑکیاں اس چکر میں وہاں خوار ہوتی تھیں۔۔عائشہ گلالئی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہیں اس کے بارے میں کچھ کچھ علم تھا ،ْ انہوں نے کہا کہ گلالئی زیادہ سیریس ہو گئی تھی اور شادی کے خواب دیکھنے لگی تھی۔گلالئی کے گندے مسیجز کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایک ایم این اے خاتون جو پاکستان کی ساری سیاسی پارٹیوں کا چکر لگا چکی ہیں اور میک اپ رومز میں بیٹھ کر کافی باتیں بتایا کرتی ہیں۔

(جاری ہے)

عمران خان نے گلالئی کو جو ’’خاص تصاویر‘‘ بھیجی تھیں، اس سے پہلے یہ تصاویر اس خاتون ایم این اے کو بھیجی گئیں تھیں۔ اس پر اس خاتون ایم این اے نے کہا کہ میں کیسے مان لوں یہ تصاویر تمھاری ہیں تو عمران خان نے اپنی ’’گھڑی‘‘ ساتھ رکھ کہ تصاویر بنا کر بھیجی تھیں۔ عمران ایک موقع پر واقعی گلالئی سے شادی کرنا چاہتا تھا اور اس کے پیچھے مقصد یہ تھا کہ عمران جو خود پختون نہیں ہے وہ پختونوں میں اپنا ووٹ بینک بنانے اور ایک رشتہ کے تاثر کو اجاگر کرنا چاہتا تھا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی نے میرے پیچھے پرائیویٹ انویسٹگیٹرز لگائے ہوئے ہیں جو ہر وقت میرا پیچھا کرتے ہیں اور جن سے میں ملتی ہوں ان کو بھی دھمکایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اینکر نے ان سے کہا کہ آپ نے ایسے فضول شخص سے شادی کیوں کی تو میں نے پوچھا کون سے پہلے والے سے یا دوسرے والے سے کیوں کہ میں نے دو فضول لوگوں سے شادی کی۔

((ریحام کا جواب انگلش میں تھا اور لفظ زیادہ سخت تھا )۔انہوں نے بتایا کہ جب عمران خان نے انہیں پروپوز کیا تو انہیں اندازہ تھا یہ ایک قدرے بیوقوف، نفسیاتی طور پر غیر متوازن شخص ہے مگر میں نے سوچا میں اس کے ساتھ رہوں گی تو اس کو کسی حد تک ٹھیک اور بہتر کر لوں گی۔ مگر یہ اندازہ نہیں تھا کہ لوگ انتہائی خطرناک ہیں بلکہ میری نظر میں تو ملک دشمن ہیں اور ایک مافیا ہیں جو اس ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

میرا مقصد اس کتاب کے ذریعے اس مافیا کے پیچھے کارفرما بین الاقوامی سازش کو بے نقاب کرنا بھی ہے تاکہ اس ملک کے لوگوں کو سچ بتایا جاسکے۔حمزہ علی عباسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ ’’موزوں‘‘ آدمی اس کام کیلئے عمران کے پاس اور کوئی نہیں ہوسکتا تھا۔حمزہ عباسی انہیں کافی عرصے سے ای میلز کرتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے ای میل کی کہ میں جہانگیر ترین اور ایک انصافی لیڈر کو ’’ایکسپوز‘‘ کر کہ پی ٹی آئی کو خیر باد کہہ رہا ہوں۔

اور وہ ای میل میرے پاس موجود ہے۔انہوں نے بتایا کہ حمزہ عباسی نے کچھ عرصہ قبل ریحام خان سے رابطہ کیا اور کہا کہ اگر ریحام خان نے کتاب پبلش کی تو پی ٹی آئی نے ایجنسیز کے ذریعے ریحام خان کا لیپ ٹاپ اور اکائونٹ میں سے انتہائی ذاتی نوعیت کا مواد اکٹھا کر لیا ہے۔ اور اس کے ذریعے وہ ریحام کو کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑیں گے ،ْ اس پر ریحام خان کا جواب تھا کہ میرے حساس مواد میں گفتگو اور ای میلز میرے اپنے شوہر کے ساتھ ہوں گی مگر میرے پاس جو مواد ہے اس میں عمران خان کے ساتھ اس کی بیوی نہیں ہے اس جواب کے بعد حمزہ عباسی کو چپ لگ گئی۔

حمزہ عباسی نے کتاب کا خلاصہ یہ کیا کہ عمران خان شیطان ہے اور ریحام تہجد گزار، تو اس پر انہوں نے کہا کہ انہیں بنی گالہ میں اکثر رات کو وحشت ہوتی تھی اور وہ جاگ جاتیں تو سوچتیں کہ تہجد پڑھ لوں۔ انہوں نے کہا ویسے بھی میں نے فجر کے وقت کا الارم لگایا ہوتا تھا میں چیزوں کو ترتیب سے رکھنے کی عادی ہوں ایسے ہی ایک شب میں جاگی تو چیزیں ٹھیک کرتے ہوئے مجھے علم ہوا کہ خفیہ فون کہاں چھپا کر رکھا گیا ہے اور اس میں کیا کچھ ہے اس کے اسکرین شاٹس کی کلر تصاویر کتاب کا حصہ ہیں۔

پنکی پیرنی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عجیب بات یہ ہے جب خان صاحب پنکی پیرنی کے گھر جاتے تو سارے عزیزو اقارب نیچے بیٹھے ہوتے اور خان صاحب اوپر پنکی پیرنی کے ساتھ کئی گھنٹے اس کے حجرے میں رہتے۔ انہوں نے کہا کہ پنکی پیرنی کی حرکات و سکنات کا قندیل بلوچ کو علم تھا کیونکہ قندیل کا بہت با اثر افراد اور سوسائٹی میں تعلقات اور اٹھنا بیٹھنا ہوگیا تھا۔

اس نے ایک انٹرویو میں پنکی پیرنی کا ذکر کر دیا جو اس کے حق میں اچھا ثابت نہیں ہوا۔انہوں نے کہا پنکی پیرنی کے دیور سے ہماری فیملی کے پرانے تعلقات ہیں ،ْ پنکی پیرنی کا شوہر نہایت بری شہرت کا حامل شخص ہے اور اس کے دیور نے مجھے یہ تک بتایا تھا کہ پنکی پیرنی لوگوں کو اکٹھا کر کے عملیات کرواتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین اور علیم خان عمران خان سے کہتے تھے کہ زمان پارک والا گھر گرا دو اور نیا بنائو مجھے علم نہیں اس میں ان کی کیا دلچسپی تھی۔

میں نے عمران خان کو منع کیا اور کہا تم قومی ہیرو ہو اور تمھارا یہ گھر اسی حالت میں پریزرو رہنا چاہیے لوگوں کو اس میں دلچسپی ہوگی کہ عمران خان اس گھر میں پیدا ہوا تھا ،ْدوسرا تمہاری بہن صرف تمہاری وجہ سے ناراض ہو کر آئی ہوئی ہے وہ کہاں جائیگی وہ بے گھر ہوجائے گی۔ عمران نے میری بات مان لی۔ لیکن جیسے ہی پنکی پیرنی آئی۔ اس نے عمران سے کہا کہ یہ گھر گرا دو۔

انہوں نے کہا کہ میں، عمران خان کی بہنوں کو لینے کیلئے گاڑیاں بھیجتی تھیں اور وہ نخرے کرتی تھیں اب حالات اور طرح کے ہیں پنکی پیرنی نے ایک مخصوص احاطے سے آگے کا علاقہ آئوٹ آف بانڈز قرار دے دیا ہے ،ْوہ اپنے ساتھ دو ملازمائیں لائی ہے اس حصے میں سوائے ان کے گھریلو ملازموں کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے۔انہوں نے کہا 2014 کے دھرنوں میں چند وہ جرنیل بھی شامل تھے جو بظاہر ریٹائرڈ بتائے جاتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ کتاب میں جنرل اسد درانی، جنرل عاصم باجوہ اور جنرل مشرف کا بھی ذکر ہے۔ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ جس دن میں عمران خان سے جدا ہوئی مجھے سمجھ آگئی ہے کہ کیوں نواز شریف تین دفعہ وزیراعظم بن گیا اور تم آج تک ایک دفعہ بھی نہیں بن سکے۔ یحام بتاتی ہیں کہ بنی گالہ میں رہتے ہوئے ان کو کبھی سبزی وغیرہ منگوانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ،ْہمیشہ تازہ ہائبرڈ، آرگینک سبزیاں آ جاتی تھیں۔

ایک دن انہوں نے جامنی رنگ کی بند گوبھی دیکھی تو استفسار کیا یہ سب سبزیاں اور سلاد کہاں سے آتے ہیں تو ان کو بتایا گیا کہ مسلم لیگ (ن )کے کیڈ کے سابقہ وزیر طارق فضل چوہدری کے فارم ہائوس سے آ رہی ہیں ،ْیہ بات سن کر میں بہت حیران ہوئی۔ ریحام خان بتاتی ہیں ان کی شہباز شریف سے ایک انٹرویو میں ملاقات ہوئی تھی۔ جب انٹرویو کرنے گئی تو ایک ڈرائنگ روم میں ہماری ٹیم کو بیٹھا دیا گیا جہاں اور لوگ بھی خوش گپیوں میں مصروف تھے۔

لیکن جیسے ہی شہباز شریف کمرے میں داخل ہوئے تو جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا اور کمرے میں ایک دم سناٹا چھا گیا ،ْ ریحام خان کے مطابق شہباز شریف کے اطوار کسی فوجی جرنیل جیسے تھے ،ْپورے انٹرویو میں انہوں نے نہایت سنجیدگی اور متانت سے گفتگو کی۔ پورے انٹرویو میں نہ انہوں مسکراہٹیں اچھالیں اور نہ کوئی کنایتاً اشارتاً گفتگو کی۔ جیسا کہ ان کو کئی پاکستانی شخصیات کے ساتھ پروگرام کرتے یا انٹرویو کرتے ہوئے تجربہ ہوا۔

بلکہ انٹرویو کے بعد انہوں نے مجھے پدرانہ انداز میں ڈانٹا کہ انٹرویو کافی سخت تھا۔۔کیپٹن صفدر کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ میرے پھوپھا مفتی صاحب بڑے سیاسی اثر و رسوخ والے شخص تھے۔ ان کے کیپٹن صفدر اور ان کے چچا تایا کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔ ریحام خان کہتی ہیں ہماری ساری فیملی مسلم لیگی ہے۔ میری پھوپھا کو پیپلز پارٹی نے بہت آفرز کروائیں مگر وہ آخری دم تک مسلم لیگ کے مخلص رہے ،ْان کے مطابق آئی جے آئی ان کے گھر بنی تھی۔

ریحام خان کے مطابق ان سے پی ٹی آئی کی ایک اہم شخصیت نے رابطہ کیا اور کہا کہ آپ یہ کن چکروں میں پڑ گئی ہیں چھوڑیں یہ سب اور جائیں جا کہ زندگی انجوائے کریں بیچ وغیرہ پر چھٹیاں منائیں اور پیسوں کی فکر مت کیجئے گا۔ میرے انکار پر اس نے کہا کہ آپ کی بچیوں کی شادی کی عمر ہے اور جو کچھ آپ کرنے جا رہی ہیں ان کے ساتھ کوئی پاکستانی شادی نہیں کریگا۔ انہوں نے کہا کہ میرے بچوں نے میری دونوں شادیوں میں پاکستانی مردوں کے روئیے اور کردار دیکھ لیے ہیں اس لیے وہ خود سے پاکستانی مرد سے شادی نہیں کریں گی لہذا میں اس خوف سے پیچھے نہیں ہٹوں گی نہ صرف میرے بچے میرے ساتھ ہیں بلکہ میرا زندگی کے ہر موڑ پہ میرا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔