چرچ دھماکے کے متاثرین کو رقوم کی ادائیگی میں تاخیر، سپریم کورٹ کا چیف سیکریٹری کو تحقیقات کا حکم

وزارت خزانہ سے جو رقم مانگی گئی وہ ادا کردی گئی، اگر مزیر رقم بھی مانگی گئی تو 3 کاروباری روز میں ادا کردیں گے ،ْاٹارنی جنرل

جمعہ جون 21:57

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) سپریم کورٹ نے کوئٹہ چرچ دھماکے کے متاثرین کو رقوم کی ادائیگی میں تاخیر کے معاملے پر چیف سیکریٹری بلوچستان کو تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ایک ماہ میں رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کردی۔۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کوئٹہ چرچ دھماکے کے متاثرین کو رقوم کی ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس دوران بلوچستان حکومت کے وکیل، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور اٹارنی جنرل بھی پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران وکیل بلوچستان حکومت نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم کے مطابق متاثرین کی ساری رقم ایڈیشنل سیشن جج کے پاس جمع کروا دی ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں نے کہا تھا کہ اصل رقم کے ساتھ تاخیری جرمانہ بھی جمع کروائیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کتنے ماہ تو آپ نے کوئی اجلاس ہی نہیں بلایا، اس پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ اس حوالے سے 4 اجلاس کیے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اجلاس سپریم کورٹ کے نوٹس کے بعد ہوئے ہیں۔

عدالت میں وکیل بلوچستان حکومت نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے 9 افراد اور 55 زخمیوں کو رقم کی ادائیگی کردی گئی ہے ،ْ جو زخمی ہلاک ہوچکا ہے اس کے لواحقین کو بھی معاوضہ ادا کریں گے۔دوران سماعت اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزارت خزانہ سے جو رقم مانگی گئی وہ ادا کردی گئی، اگر مزیر رقم بھی مانگی گئی تو 3 کاروباری روز میں ادا کردیں گے۔اس موقع پرعدالت کی جانب سے حکم دیا گیا کہ رقوم کی ادائیگی میں تاخیر کے معاملے پر چیف سیکریٹری تحقیقات کرائیں اور تاخیر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے جبکہ اس حوالے سے ایک ماہ میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ میں بلوچستان کے ضلع خاران میں 6 مزدوروں کی ہلاکت پر ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سیلولر کمپنی یوفون کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ہلاک مزدوروں کے لواحقین کو ادائیگیاں کردی گئیں اس پر وکیل نے بتایا کہ ہماری کمپنی نے تمام لواحقین کو رقم کی ادائیگی کردی ہے۔۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے ادائیگیاں کس کو کی ہیں اس پر وکیل یوفون نے بتایا کہ ہم نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو ادائیگیاں کردی ہیں۔

اس موقع پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے عدالت کو بتایا کہ کمپنی کی جانب سے 65 لاکھ روپے کی رقم جمع کروادی گئی، جس میں سے زیادہ تر متاثرین کے لواحقین کو ادائیگیاں کردی ہیں۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے بتایا کہ ایک مزدور غیر شادی شدہ تھا اور اس کے والدین بھی حیات نہیں، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مزدور کی جانب سے کسی وارث نے آپ سے رابطہ کیا ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے بتایا کہ دو بھائی اور ایک بہن نے ہم سے رابطہ کیا، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ شریعت کے مطابق ان میں رقم تقسیم کریں۔

سماعت کے دوران ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے مزید بتایا کہ ایک مزدور کی بیوہ کا شناختی کارڈ نہیں، جس کے باعث ان کو ادائیگی نہیں کی جاسکی۔اس موقع پر عدالت نے نادرا حکام کو خاتون کا جلد سے جلد شناختی کارڈ بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت عید کے بعد تک کے لیے ملتوی کردی۔