ایم ایم اے پاکستان کو ریاست مدینہ کا بہترین نمونہ، اسلامی نظام کو یقینی بنائے گی، ملک سکندرایڈوکیٹ

متحدہ مجلس عمل کی صالح قیادت اور منتخب نمائندے عوامی اعتماد پر پور ا اتریں گے، ایم ایم اے نے ترقی کا منصوبہ پیش کردیا ہے، خود انحصاری، سودی نظام کا خاتمہ، بیرونی قرضوں سے نجات ترجیحات ہوں گی،گفتگو

جمعہ جون 21:57

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) جمعیت علما ء اسلام کے صوبائی جنرل سیکرٹری ملک سکندرخان ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ ایم ایم اے نے اپنتے منشور میں وطن عزیز کو درپیش تمام مسائل کا حل پیش کردیا ہے۔عوام نے اعتماد دیا تو پاکستان کو ریاست مدینہ کا بہترین نمونہ اور اسلامی نظام کے نفاذ کو یقینی بنائیں گے۔70 ۔سال کا عرصہ گذرچکا عوام کی تقدیر نہیں بدلی۔

انشااللہ متحدہ مجلس عمل کی صالح قیادت اور منتخب نمائندے عوامی اعتماد پر پور ا اتریں گے۔ جس کے لئے کرپشن کا خاتمہ، برابری کی سطح پر دوسرے ممالک سے خارجہ پالیسی کا نفاذ اور تمام اسلامی ممالک پر مشتمل بلاک کی تشکیل ایم ایم اے کی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ جبکہ ملکی وسائل کی برا بری کی بنیاد پر تقسیم ، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور نوجوانوں کو روز گار کی فراہمی متحدہ مجلس عمل کی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔

(جاری ہے)

مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے نے ترقی کا منصوبہ پیش کردیا ہے۔ جس کے مطابق خود انحصاری اور کفایت شعاری پیدا کرکے سودی نظام کا خاتمہ اور بیرونی قرضوں سے نجات ایم ایم اے کی ترجیحات ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم اور صحت کی سہولیات نہ دینے والے حکمرانوں کو اقتدار سے چمٹے رہنے کا حق نہیں ہے۔ قوم خاندانی جماعتوں اور لچر پن کی سیاست سے تنگ آچکے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل قوم کو دیندار اور ایماندار قیادت فراہم کرے گی۔ لوگوں کو اپنے بنیاد ی مسائل کا حل چاہیے، وہ روایتی سیاست سے تنگ آچکے ہیں۔صرف ایم ایم اے ہی متبادل نظام رکھتی ہے، جس کی بنیاد قرآن و سنت ہے۔