معروف امریکی فوٹو جرنلسٹ ڈیوڈ ڈگلس ڈنکن 102 سال کی عمر میں فرانس میں انتقال کر گئے

ہفتہ جون 10:00

پیرس ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) معروف امریکی فوٹو جرنلسٹ ڈیوڈ ڈگلس ڈنکن 102 سال کی عمر میں فرانس میں انتقال کر گئے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ان کا کریئر 60 سال پر محیط تھا۔وہ تقریباً 20 کتابوں کے مصنف تھے اور انھوں نے لاتعداد آریٹکلز لکھے اور سینکڑوں ہزاروں تصاویر کھینچیں۔ڈنکن کا شمار دنیا کے بہترین فوٹوگرافروں میں ہوتا ہے۔

1916ء میں پیدا ہونے والے ڈیوڈ ڈگلس ڈنکن نے فوٹو جرنلزم میں اس وقت قدم رکھا جب وہ یونیورسٹی آف ایریزونا میں آرکیالوجی کے طالبعلم تھے۔یہ 1934ء کی بات ہے جب انھیں ان کی بہن نے سالگرہ کے موقع پر کیمرہ دیا جس کی مدد سے ڈیکن نے ٹسکن کے کانگرس ہوٹل میں لگی آگ کی تصاویر لیں۔اس کوشش کے بعد ڈنکن نے 1938ء میں خود کو فوٹو جرنلزم کے لیے وقف کر دیا۔

(جاری ہے)

آنے والے عرصے میں ڈنکن پروفیشنل فوٹوگرافر کے طور پر پہچانے جانے لگے۔ یہ وہ موقع تھا جب ان کا نام 1943ء میں امریکی بحریہ کے میامی جانے والے گروہ کے ساتھ آیا اور یوں انھیں جنگ کے دوران فوٹوگرافر کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا۔انھیں مغربی بحرالکاہل اور سولومن جزائر میں بھی کام سونپا گیا۔ڈنکن نے 1967ء میں ویتنام کی جنگ کے دوران بھی کام کیا اور پھر اپنی دو کتابیں بھی منظر عام پر لائے۔

جنگ کے دوران فوٹوگرافر کی حیثیت سے کام کرنے کے علاوہ ڈنکن اپنے دوست پیبلو پیکاسو کی پوٹریٹ کے حوالے سے بھی معروف ہیں۔ 1996 میں ڈنکن نے اپنے 400 بکسوں میں محفوظ اپنے کام کو ہیری رینسم سینٹر کے لیے وقف کر دیا تھا۔حال ہی میں انھیں پیش کیے جانے والے خراج تحسین میں ہیری رینسم سینٹر میں فوٹوگرافی کے شعبے کی منتظم جیسیکا ایس میکڈونلڈ نے کہا ’ کئی دہائیوں تک امریکیوں نے اپنے گھر میں رہتے ہوئے باہر کی دنیا کے واقعات کے بارے میں جانا جو کہ ڈنکن کا کیمرہ سامنے لاتا تھا۔ڈنکن کی بنائی گئی تصاویر نے لوگوں کو معلومات فراہم کرنے اور تاریخ کو شکل دینے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔

متعلقہ عنوان :