پی ٹی آئی اپنے وعدے وفا نہ کر سکی

پی ٹی آئی نے کھوسہ فیملی کے ساتھ ہاتھ کر دیا، دو سے تین ٹکٹس کا وعدہ کر کے ایک ایک ٹکٹ جاری کیا گیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ جون 11:57

پی ٹی آئی اپنے وعدے وفا نہ کر سکی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09 جون 2018ء) : پاکستان تحریک انصاف نے گذشتہ رات عام انتخابات کے لیے انتخابی اُمیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا۔ خیبرپختونخوامیں صوبائی اسمبلی کے81 اُمیدواروں، سندھ اسمبلی کےفی الحال21 حلقوں،،بلوچستان اسمبلی کے23 حلقوں ، اور پنجاب کے 165 حلقوں کے لئے انتخابی اُمیدواروں کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔ کئی انتخابی اُمیدواروں نے پارٹی کی جانب سے ٹکٹ نہ ملنے پر شدید رد عمل کا اظہار بھی کیا جس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ پی ٹی آئی ٹکٹ کے معاملے پر اپنے وعدے وفا نہیں کر سکی۔

پی ٹی آئی نے حال ہی میں پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے کھوسہ خاندان کو بھی مایوس کیا اور اپنا وعدہ وفا نہیں کیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق کھوسہ فیملی کو قومی اسمبلی کی دو کی بجائے ایک نشست جبکہ صوبائی اسمبلی کی تین کی بجائے ایک نشست پر ٹکٹ جاری کیا گیا۔

(جاری ہے)

ذوالفقار کھوسہ نے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ہمیں قومی اسمبلی کی دو جبکہ صوبائی اسمبلی کی تین نشستیں دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

  لیکن اب سامنے آنے والی فہرست میں این اے 190 میں سردار ذوالفقار کھوسہ کو ٹکٹ جاری کر دیا گیا ہے اور این اے 192 سے ذوالفقار کھوسہ کے بیٹے کو اُمیدوار ہونا تھا لیکن ان کی جگہ محمد خان لغاری کو ٹکٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ این اے 192 کی سیٹ تو نہ ملی لیکن سیف الدین کھوسہ کو ڈیرہ غازی خان سے پی پی 280 کے لیے  صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کے لیے ٹکٹ دیا گیاہے۔

کھوسہ خاندان کے اور کسی شخص کو ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا۔ خیال رہے کہ پی ٹی آئی نے گذشتہ روز عام انتخابات 2018ء کے لیے  اپنے اُمیدواروں کی فہرست جاری کی، اس فہرست پر پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں  نے اعتراض کیا۔ عمران خان نے ٹکٹ نہ ملنے والوں کے لیے پیغام جاری کیا جس میں کہا گیا کہ انتخابی اُمیدواروں کو ٹکٹ کا اجرا ایک نہایت اہم لیکن کٹھن مرحلہ تھا۔

ہمیں ساڑھے4 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، یہ ایک فطری امر تھا کہ سب کو ٹکٹس دینا ناممکن تھا۔ پارٹی نے نہایت محنت و دیانتداری سے فیصلے کیے، جہاں ضرورت محسوس کی خفیہ انداز میں عوام اور کارکنان سے رائے بھی طلب کی۔ دیرینہ کارکنان اور پارٹی وفاداری کو فیصلہ سازی میں ملحوظ خاطر رکھا گیا۔ پارٹی چئیرمین نے کہا کہ جن لوگوں کو ٹکٹس نہیں ملے، میں انہیں ساتھ چلنے کی دعوت دیتا ہوں۔

الیکشن کے پیش نظر پی ٹی آئی میں دیگر سیاسی جماعتوں سے کئی بڑے بڑے ناموں نے شمولیت اختیار کی ، یہ سلسلہ نواز شریف کی نا اہلی اور الیکشن کے نزدیک آنے پر تیز ہو گیا جب مسلم لیگ ن سمیت دیگر سیاسی جماعتوں میں سے کئی بڑے بڑے سیاسی رہنماؤں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔ بڑے سیاسی ناموں کی پی ٹی آئی میں شمولیت اور ان کو ٹکٹ جاری ہونے کے معاملے پر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو بھی اس بات کا اندازہ ہو گیا ہے کہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کی سیاسی پوزیشن مضبوط ہو گی جس کی وجہ سے انہوں نے پی ٹی آئی میں شامل ہو کر اپنا سیاسی کیرئیر مزید محفوظ کر لیا ہے۔