عام انتخابات کے لیے ٹکٹ دینے کا معاملہ، مسلم لیگ ن نے اپنے حکمت عملی تبدیل کر لی

مریم نواز کا این اے 125 کی بجائے این اے 127 سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ، ایاز صادق بھی علیم خان کے خلاف الیکشن نہیں لڑنا چاہتے۔ ذرائع

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ جون 12:24

عام انتخابات کے لیے ٹکٹ دینے کا معاملہ، مسلم لیگ ن نے اپنے حکمت عملی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09 جون 2018ء) : عام انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں نے اپنے پارٹی اُمیدواروں کو ٹکٹ کے اجرا کا آغاز کردیا ہے ۔ گذشتہ رات پی ٹی آئی نے اپنے انتخابی اُمیدواروں کی فہرست جاری کی، تاہم اب مسلم لیگ نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مریم نواز نے این اے 125 کی بجائے این اے 127 سے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ مریم نواز کا این اے 125 کی بجائے این اے 127 سے الیکشن لڑنے کا امکان ہے جبکہ دوسری جانب ایاز صادق پی ٹی آئی رہنما علیم خان کے مقابلے میں الیکشن نہیں لڑنا چاہتے،،ایاز صادق این اے 125 سے پی ٹی آئی کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کے خلاف میدان میں آنا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں پرویز ملک کو حلقہ تبدیل کرنے کے لیے زور دیا جارہا ہے لیکن وہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔

(جاری ہے)

یہی نہیں مسلم لیگ ن نےاپنے انتخابی اُمیدواروں اور پارٹی کارکنان سے حلف بھی لے لیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے عام انتخابات کے لیے اُمیدواروں سے حلف لیا جس میں کہا گیا کہ پارٹی ڈسپلن کی ذمہ داری ہر کسی پر لازم ہو گی۔ کسی اُمیدوار کو پارٹی ٹکٹ نہ ملے تو وہ آزاد حیثیت میں الیکشن نہیں لڑے گا۔ پارٹی لیڈر سے لے کر تمام کارکنان حلف نامے کے پابند ہوں گے۔

پارٹی کا کہنا ہے کہ تمام اُمیدواروں کو ٹکٹ نہیں دیا جا سکتا کچھ اُمیدواروں کو قربانی دینا ہو گی۔ اس سے قبل مسلم لیگ ن کے ایک خفیہ سروے کے مطابق خفیہ سروے کے مطابق مریم نواز حلقہ این اے 125 سے الیکشن ہار سکتی ہیں۔ خفیہ سروے کے بعد مریم نواز کے لیے حلقہ این اے 127 سے بھی کاغذات نامزدگی حاصل کر لیے گئے ہیں۔ مریم نواز کے حلقہ انتخاب کے تعین کا حتمی فیصلہ پارٹی قائد نواز شریف ہی کریں گے۔

ن لیگ کے حلقہ این اے 125میں کروائے گئے سروے کے مطابق اس حلقہ میں کشمیری براداری اور آرائیں برادری موجود ہے جو چاہتے ہیں کہ یہاں سے کوئی آرائیں نمائندہ ہی آگے آئے۔اس تمام صورتحال میں ن لیگ کی قیادت سر جوڑ کر بیٹھ گئی ہے۔اور اب توقع کی جا رہی ہے کہ مریم نواز حلقہ این اے 125 کے بجائے حلقہ این اے 127 سے الیکشن لڑیں گی کیونکہ وہاں سے مریم نواز کے جیتنے کے زیادہ امکانات ہیں۔

یاد رہے کہ حلقہ این اے 125 پہلے حلقہ این اے 120تھا جہاں سے مریم نواز کی والدہ کلثوم نواز نے الیکشن لڑا تھا اور وہ جیت بھی گئی تھیں۔ بیگم کلثوم نواز کے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہونے کی وجہ سے مریم نواز نے تن تنہا اپنی والدہ کی انتخابی مہم چلائی اور حلقے کے کئی دورے بھی کیے جس میں انہوں نے مقامی لوگوں سے بات چیت اور ملاقات کر کے ان کے مسائل سنے اور ان کو جلد ازجلد مسائل کے حل کی یقین دہانی بھی کروائی۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو اقامہ ظاہر نہ کرنے پر نا اہل قرار دیا گیا تھا۔ جس کے بعد نواز شریف کو وزارت عظمٰی اور پارٹی صدارت سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو اس وقت بھی نیب مقدمات کا سامنا بھی ہے۔ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز اس حوالے سے احتساب عدالت میں 70 سے زائد پییشیاں بھگت چکے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شریف خاندان کے خلاف مقدمات کا فیصلہ جلد آنے کا امکان ہے ، ان مقدمات میں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کو سزا ہونے کا بھی امکان ہے۔