شارجہ:ویزے کی مُدت سے زائد قیام پر عائد بھاری جُرمانے نے پاکستانی جوڑے کی زندگی اجیرن کر دی

عبدالغنی اور اس کی فیملی جُرمانے کی عدم ادائیگی کے باعث متحدہ عرب امارات میں محصور ہو کر رہ گئے مخیر حضرات سے اِمداد کی اپیل

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ جون 12:54

شارجہ:ویزے کی مُدت سے زائد قیام پر عائد بھاری جُرمانے نے پاکستانی جوڑے ..
شارجہ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 9جُون 2018ء) شارجہ میں مقیم پاکستانی خاندان ویزے سے زائد مُدت کے قیام پر عائد ہونے والے نوّے ہزار اماراتی درہم کے بھاری جُرمانے پر شدید مشکلات کا شکار ہے اور انتہائی کسمپرسی کے عالم میں زندگی کی گاڑی گھسیٹ رہا ہے۔ مذکورہ خاندان کو جرمانے کی عدم ادائیگی کے باعث پاکستان واپس لوٹنے میں بھی حکام کی پابندی کا سامنا ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی 33سالہ پاکستانی عبدالغنی کے مطابق وہ دُبئی کی ایک انویسٹمنٹ کمپنی میں بطور آئی ٹی افسر کام کر رہا تھامگر 2016ء کے وسط میں اپنی نوکری گنوانے کے بعد شدید مالی بحران کا شکار ہو گیا۔پیسوں کی کمی کے باعث 2016ء کے اختتام پر اُسے اپنی بیوی اور بچے کا ویزہ منسوخ کروانا پڑا۔ 2017ء کے آغاز میں عبدالغنی کو ایک انجینئرنگ کمپنی میں جاب مل گئی مگر ابھی اُس نے کمپنی کو جوائن نہیں کیا تھا کہ اُسے شارجہ میں کریڈٹ کارڈ کے واجبات کا نادہندہ ہونے کے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا۔

(جاری ہے)

جس پر نئی کمپنی والوں نے اسے ملازمت پر رکھنے سے معذرت کر لی۔ عبدالغنی کے مطابق ویزہ‘ ملازمت اور رقم کے نہ ہونے کے علاوہ وہ کریڈٹ کارڈ رقم کا بھی نادہندہ تھا جس کے باعث اُس کا وطن واپس لوٹنا مشکل ہو گیا۔ معاشی بدحالی کے اس دور میں اُس نے دُبئی کی امیگریشن حکام سے اپیل کی جہاں سے اُن کے ویزے جاری کر دیئے گئے اور اس کی بیوی اور بچے دونوں کے پر عائد جرمانے کی رقم چار ہزار درہم تک محدود کر دی گئی۔

اُس نے یہ جرمانے ایک ماہ کے اندر ادا کر دیئے۔ تاہم اُسے رہائش کے کرائے کے لیے دیئے گئے چیک کے باؤنس ہونے پر اس کے بدلے رقم کی ادائیگی کرنا تھی۔عبدالغنی کے مطابق ’’آخر کار میں نے بینک‘ کریڈٹ کار اور رہائشی کرایہ کی مد میں رکھوائے گئے باؤنس ہونے والے چیک کلیئر کروا لیے۔ میں نے جرمانے کی رقم ادا کی اور جیل بھی کاٹی۔ اب مجھ پر کوئی کیس نہیں ہے۔

ہم پاکستان واپس جانا چاہتے ہیں مگر ہم پر ویزے کی مُدت سے 350 سے زائد دِن قیام پر تقریباً نوّے ہزار درہم کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ جب میرے پاس کوئی ملازمت‘ ویزہ اور پیسہ نہیں ہے تو میں یہ جرمانہ کیسے ادا کر سکتا ہوں۔کاش کوئی ہمیں اس مشکل سے نکال دے۔‘‘ عبدالغنی نے مزید کہا کہ وہ اور اس کی فیملی کچھ عرصے سے چند دردِ دِل رکھنے والے افراد کی مالی امداد غنی کی وقتاً فوقتاً فری لانس آئی ٹی جابز کے باعث بمشکل گزارہ کر رہے تھے مگر اب امداد کے یہ در بھی بند ہو گئے ہیں۔

غنی کی صحت اچھی نہیں ہے‘ وہ ذیابیطس ‘ بلڈ پریشر اور ہائی کولیسٹرول کا شکار ہے۔ اور اس کی صحت روز بروز بگڑتی جا رہی ہے۔ 2017ء میں اُس نے اپنے بچے کو سکول سے سیکنڈ گریڈ کی پڑھائی کے دوران اُٹھالیا۔ عبدالغنی کو کراچی میں اپنے سابقہ باس کی جانب سے نوکری کی آفر ہے مگر اس کے لیے واپسی کا راہ بہت کٹھن ہو چکا ہے۔ عبدالغنی 2012ء میں دُبئی کی سونے کی تجارت سے وابستہ کمپنی میں ایڈمین آفیسر کی حیثیت سے متحدہ عرب امارات آیا تھا۔