ٹکٹوں کی متنازعہ تقسیم۔۔۔ تحریک انصاف بکھرنے لگی

ناراض کارکنان نے نیا اتحاد تشکیل دیدیا، اہم اعلان بھی کرڈالا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ جون 12:55

ٹکٹوں کی متنازعہ تقسیم۔۔۔ تحریک انصاف بکھرنے لگی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09 جون 2018ء) : پاکستان تحریک انصاف نے گذشتہ رات اپنے انتخابی اُمیدواروں کی فہرست جاری کی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کی گئی فہرست میں کئی غلطیاں بھی دیکھنے میں آئیں جیسے کہ پی ٹی آئی نے اپنی انتخابی فہرست میں مسلم لیگ ن کی رہنما نازیہ راحیل کو بھی نامزد کر دیا جس کی نازیہ راحیل نے تردید کی ۔ پارٹی کی جانب سے جاری فہرست پر کئی اعتراضات سامنے آئے۔

پی ٹی آئی نے اپنی انتخابی فہرست میں بظاہر اپنے اہم رہنماؤں علی محمد خان ، شوکت یوسفزئی اور شہریار آفریدی کو ٹکٹ جاری نہیں کیا۔ پارٹی میں ٹکٹ کی تقسیم اور پارٹی کی جانب سے جاری کی جانے والی فہرست پر کئی کارکنان اور پارٹی رہنماؤں نے اعتراض اُٹھایا جس کے پیش نظر ناراض کارکنان نے گرینڈ الائنس کے نام سے ایک اتحاد تشکیل دے دیا ہے جس میں مردان سے تعلق رکھنے والے کارکنان بھی شامل ہیں، اس گرینڈ الائنس کے ناراض کارکنان پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ کے باہر احتجاج کریں گے۔

(جاری ہے)

یاد رہےکہ پی ٹی آئی نے گذشتہ رات عام انتخابات کے لیے اپنے انتخابی اُمیدواروں کی فہرست جاری کی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے خیبرپختونخوامیں صوبائی اسمبلی کے81 اُمیدواروں، سندھ اسمبلی کےفی الحال21 حلقوں،،بلوچستان اسمبلی کے23 حلقوں ، اور پنجاب کے 165 حلقوں کے لئے انتخابی اُمیدواروں کو ٹکٹ جاری کیا گیا ۔ کئی انتخابی اُمیدواروں نے پارٹی کی جانب سے ٹکٹ نہ ملنے پر شدید رد عمل کا اظہار بھی کیا۔

پاکستان تحریک انصاف نے گزشتہ انتخابات میں ہزاروں ووٹ لینے والے بانی رہنما کو بھی ٹکٹ سے محروم کردیا ۔ حامد خان نے 2013ء کے انتخابات میں لاہور کے حلقہ این اے 125 سے خواجہ سعد رفیق کے خلاف الیکشن لڑا تھا، تاہم اس مرتبہ انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ انتخابی اُمیدواروں کی فہرست جاری ہونے پر رد عمل کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان نے ٹکٹ نہ ملنے والوں کے لیے پیغام جاری کیا جس میں کہا گیا کہ انتخابی اُمیدواروں کو ٹکٹ کا اجرا ایک نہایت اہم لیکن کٹھن مرحلہ تھا۔

ہمیں ساڑھے4 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، یہ ایک فطری امر تھا کہ سب کو ٹکٹس دینا ناممکن تھا۔ پارٹی نے نہایت محنت و دیانتداری سے فیصلے کیے، جہاں ضرورت محسوس کی خفیہ انداز میں عوام اور کارکنان سے رائے بھی طلب کی۔ دیرینہ کارکنان اور پارٹی وفاداری کو فیصلہ سازی میں ملحوظ خاطر رکھا گیا۔ پارٹی چئیرمین نے کہا کہ جن لوگوں کو ٹکٹس نہیں ملے، میں انہیں ساتھ چلنے کی دعوت دیتا ہوں۔

الیکشن کے پیش نظر پی ٹی آئی میں دیگر سیاسی جماعتوں سے کئی بڑے بڑے ناموں نے شمولیت اختیار کی ،عین ممکن ہے کہ پارٹی میں شمولیت کرنے والوں کو اعتماد میں لینے کے لیے پارٹی کے بانی رہنماؤں سمیت اہم رہنماؤں کو ٹکٹ جاری نہ کیا گیا ہو، پی ٹی آئی میں بڑے سیاسی ناموں کی شمولیت کا یہ سلسلہ نواز شریف کی نا اہلی اور الیکشن کے نزدیک آنے پر تیز ہو گیا جب مسلم لیگ ن سمیت دیگر سیاسی جماعتوں میں سے کئی بڑے بڑے سیاسی رہنماؤں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔

بڑے سیاسی ناموں کی پی ٹی آئی میں شمولیت اور ان کو ٹکٹ جاری ہونے کے معاملے پر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو بھی اس بات کا اندازہ ہو گیا ہے کہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کی سیاسی پوزیشن مضبوط ہو گی جس کی وجہ سے انہوں نے پی ٹی آئی میں شامل ہو کر اپنا سیاسی کیرئیر مزید محفوظ کر لیا ہے۔