اسرائیلی فوج کی نہتے شہریوںکے خلاف وحشیانہ کارروائی ، مزیدچار فلسطینی شہید

احتجاج کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ سے 600 سے زائد افراد زخمی ہوئے،وزارت صحت

ہفتہ جون 14:11

مقبوضة غزہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) عالمی یوم القدس پر اسرائیلی فوج نے وحشیانہ کارروائی کرتے ہوئے غزہ کی سرحد پر جمع مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کرکے 4 فلسطینی نوجوان کو شہید اور 600 سے زائد کو زخمی کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق فلسطینی وزارت صحت نے کہاکہ حق واپسی تحریک کے تحت 30 مارچ سے شروع ہونے والے ہفت وار گرینڈ مارچ کا سلسلہ گزشتہ روز بھی برقرار رہا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، مظاہرین میں نوجوانوں کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ خواتین اور کم عمر لڑکے بھی شامل تھے۔

مظاہرین نے غزہ کی سرحد پر ٹائروں کو نذر آتش کیا اور اسرائیلی فوج پر پتھراؤ کیا جب کہ صہیونی فوج نے ظلم کے سلسلے کو برقرار رکھتے ہوئے نہتے فلسطینیوں پر براہ راست گولیاں چلائیں۔

(جاری ہے)

اسرائیلی نشانہ باز اہل کاروں نے نوجوانوں کو نشانہ بناتے ہوئے 4 فلسطینیوں کو شہید جب کہ درجنوں کو زخمی کردیا۔وزارت صحت کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ سے 600 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں خواتین اور کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے فائرکیا گیا آنسو گیس کا ایک شیل فلسطینی نوجوان کے منہ میں گیا جس سے وہ بری طرح زخمی ہوگیا اور اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا۔واضح رہے کہ 30 مارچ سے جاری احتجاجی تحریک میں صیہونی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 125 سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔