14سالہ جرمن لڑکی کا مشتبہ قاتل عراق سے گرفتار،

منتقل کرنے کے لیے قانونی کارروائی ملزم کو جرمنی لانے کی خاطر تمام بین الاقوامی قواعد پر عمل کیا جائے گا،عراقی حکومت تعاون کررہی ہے،جرمن وزیرداخلہ

ہفتہ جون 14:11

برلن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) جرمنی میں ایک چودہ سالہ لڑکی کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے کے جرم میں مشتبہ طور پر ملوث عراقی مہاجر کو عراق میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔یہ 20 سالہ عراقی نوجوان اچانک اکتیس مئی کو جرمنی چھوڑ کر چلا گیا تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے بتایا کہ 20 سالہ عراقی شخص کو گزشتہ شب عراق میں گرفتار کیا گیا اور اب اس ملزم کی جرمنی حوالگی کے لیے قانونی عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ملزم کو جرمنی لانے کی خاطر تمام بین الاقوامی قواعد پر عمل کیا جائے گا۔20 سالہ علی بی کو کٴْرد حکام نے عراق کے شمالی حصے سے گرفتار کیا۔ اس کی گرفتار جرمن وفاقی پولیس کی درخواست پر عمل میں آئی۔ سیاسی پناہ حاصل کرنے ناکام اس شخص پر شبہ ہے کہ اس نے ایک 14 سالہ جرمن لڑکی کو جنسی زیادتی کے بعد اسے گلا دبا کر قتل کر دیا تھا۔

(جاری ہے)

جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے کہا کہ اس حوالے سے عراقی حکومت مکمل تعاون کر رہی ہے۔ جرمن پولیس کے مطابق بطور مہاجر جرمنی آنے والا علی اپنے کبنے کے ساتھ اچانک اکتیس مئی کو جرمنی چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔جرمن پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ 20 سالہ عراقی مہاجر، جسے پولیس نے فوری پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا تھا، وہ جرمنی چھوڑ کر دوبارہ عراق فرار ہو گیا۔

اس مہاجر سے مائنز شہر کی رہائشی 14 سالہ جرمن لڑکی کے قتل کے حوالے سے تفتیش کی جانا تھی۔۔پولیس بیان کے مطابق یہ مہاجر ماضی قریب میں ویزباڈن شہر کے ایربین ہائم ضلعے میں واقع ایک مہاجر کیمپ میں مقیم تھا۔ اسی شہر سے اس لڑکی کی لاش ملی تھی۔۔پولیس کے مطابق یہ عراقی مہاجر علاقے میں متعدد دیگر جرائم کا مشتبہ ملزم بھی تھا، جس میں چاقو کے زور پر لوٹ مار جیسے جرائم بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل پولیس نے اس واقعے سے تعلق کے شبے میں ایک 35 سالہ ترک تارکِ وطن کو حراست میں لیا تھا۔ سیاسی پناہ کا متلاشی یہ ترک شہری بھی ویزباڈن ہی میں ایک مہاجر کیمپ کا رہائشی ہے۔ تاہم جمعرات کی صبح اسے رہا کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اس شخص کا لڑکی کے قتل کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ملا ہے۔

متعلقہ عنوان :