چین نے روسی صدر کو دوستی کے تمغے سے نواز دیا

پیوٹن بڑے ملک کے صدر ہیں جس کے اثرات پوری دنیا پر ہیں، چینی عوام کے پرانے دوست ہیں،یہ تمغہ صدرپیوٹن کے لیے چینی عوام کے جذبات و احترام کی ترجمانی اور دونوں ملکوں کی دوستی کی علامت ہے،چینی صدر شی جن پنگ

ہفتہ جون 14:53

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن کو چین کے پہلے دوستی کے تمغہ سے نوازتے ہوئے کہا کہصدر پیوٹن بڑے ملک کے صدر ہیں جس کے اثرات پوری دنیا پر ہیں، چینی عوام کے پرانے دوست ہیں،یہ تمغہ صدر پوٹین کے لیے چینی عوام کے جذبات و احترام کی ترجمانی اور دونوں ملکوں کی دوستی کی علامت ہے۔

چائنہ ریڈیو انٹر نیشنل کے مطابق گرینڈیوس گریٹ ہال میں منعقدہ ایک تقریب میں چینی صدر نے دونوں ممالک کی اعلی شخصیات کے سامنے روسی صدر کو بڑا سنہری تمغہ پہنایا۔اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا چین کا اعلی ترین اعزاز ان غیر ملکیوں کو دیا جاتا ہے جنہں نے ملک کو جدیدیت کی طرف لے جانے میں شاندار شراکت قائم کی اور عالمی امن کو برقرار رکھنے میں مدد کی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ یہ دوستی کا تمغہ صدر ولادی میر پیوٹن کے لیے چینی عوام کی عزت کا اظہار کرتا ہے اور یہ چین اور روس کے درمیان گہری دوستی کی نشانی ہے۔چینی صدر نے کہاکہ ہم دونوں سمجھتے ہیں کہ موجودہ تجارت کا تحفظ بڑھا ہے لیکن عالمی معیشت کی بحالی میں بہت سی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے جبکہ اقتصادی عالمگیریت اور علاقائی اقتصادی انضمام وقتی رجحان ہے۔

علاوہ ازیں تقریب سے قبل روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات دوستانہ ہیں اور ہمسائے کے ساتھ ترقی میں اسٹریجک شراکت داری پر کوشاں ہیں۔ولادی میر پیوٹن نے کہا روس اور چین کے درمیان گزشتہ برس دوطرفہ تجارت 87 ارب ڈالر تک رہی جو رواں برس کی پہلی سہہ ماہی میں 31 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔انہوں نے کہا اگر ہم ترقی کی یہ شرح برقرار رکھتے ہیں تو ہم کچھ برسوں میں اپنے مقرر کیے گئے ہدف 100 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے سربراہان نے ٹیانجن شہر میں نوجوانوں کی آئس ہاکی کے مقابلے میں بھی شرکت کی۔