پنجاب میں کپا س کی کاشت کا 95فی صد ہدف حاصل کر لیا گیا

صوبہ پنجاب میں 2برس میں 20لاکھ گانٹھ روئی کے اضافے سے ملکی معیشت کو200 ارب روپے کا فائدہ ہوا

ہفتہ جون 15:01

راولپنڈی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق پنجاب میں کپا س کی کاشت کا 95فی صد ہدف حاصل کر لیا گیا ہے جبکہ کپا س کی کاشت کا سو فی صد ہدف بھی بہت جلد مکمل کر لیا جائے گا ۔اے پی پی کو دستیاب معلومات کے مطابق ایڈیشنل سیکرٹری زراعت (ٹاسک فورس) پنجاب بینش فاطمہ ساہی نے گذشتہ روز ایک اجلاس میں بتایاکہ صوبہ پنجاب میں رواں برس 5.7 ملین ایکڑ رقبہ پر کپاس کی کاشت کا ہدف مقرر کیا گیا تھا جس سے 10 ملین گانٹھ کا پیداواری ہدف بھی مقرر کیا گیا تھا ۔

انہوں نے بتایاکہ ملکی مجموعی پیداوار کا قریباً 72 فیصد پنجاب میں پیدا ہوتا ہے۔ صوبہ میں اب تک کپاس کی کاشت کا 95 فیصد ہدف حاصل کرلیا گیا ہے۔ قومی خبر ایجنسی کے مطابق کہ بینش فاطمہ ساہی نے اس موقع پر اجلا س کو بتایاکہ کپا س کی کاشت کے پیداواری اہداف کے حصول کے لیے محکمہ زراعت پنجاب نے خاطر خواہ اقدامات کیے جن میں کروڑوں روپے کی لاگت سے بیج کپاس کی منتخب اقسام پر بحساب 700 روپے فی بیگ سبسڈی فراہم کی گئی ،کپاس کے کاشتکاروں کو 14 کروڑ 74 لاکھ روپے کی خطیر رقم سے سپرے مشینری کی سبسڈی پر فراہمی کے اقدامات شامل ہیں ۔

(جاری ہے)

ایڈیشنل سیکرٹری زراعت نے کہاکہ کاٹن مشن 2025 ایک روڈ میپ ہے جس کا مقصد صوبہ میں 20ملین گانٹھ روئی کی پیداوار کا ہدف حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کپاس کی فصل کو گلابی سنڈی کے حملے سے بچانے اور پیداوار بڑھانے کے لیے 96.2 ملین روپے کی لاگت سے صوبہ بھر کی 50 تحصیلوں میں فی تحصیل 50 ایکڑ پر مشتمل نمائشی بلاک قائم کئے گئے جن کے بہتر نتائج برآمد ہوئے۔

رواں برس بھی 54 تحصیلوں میں 50 ایکڑ فی تحصیل پی بی روپس کے نمائشی پلاٹ مفت لگائے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب میں گزشتہ 2 سالوں کے دوران 20لاکھ گانٹھ روئی کا اضافہ ہوا جس سے ملکی معیشت کو 200 ارب روپے کا اضافی فائدہ ہوا ۔ایڈیشنل سیکرٹری زراعت (ٹاسک فورس) پنجاب نے کہا کہ پانی کی کم دستیابی سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی مرتب کر لی گئی ہے تاکہ دستیاب وسائل کے ساتھ کپاس کی پیداوار کے ہدف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ عنوان :