50 چینی کمپنیوں کی بندش سے پاکستان میں کھادوں اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ

ہفتہ جون 15:01

راولپنڈی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) محکمہ زراعت پنجاب نے انکشاف کیا ہے کہ چین میں اکتوبر 2017 سے مارچ2018 کے دوران زرعی ادویات و کھادیں تیار کرنے والی 50بڑی کمپنیاں بند ہو نے سے پاکستان میں کھادوں اورزرعی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایاکہ چین کے صوبہ شینڈونگ میں اکتوبر 2017 سے مارچ2018 کے دوران 50 بڑی کمپنیاں بند ہو گئیں جن کے اثرات پاکستانی مارکیٹ پر پڑے ۔

(جاری ہے)

ترجمان نے بتایاکہ پیداواری لاگت میں کمی کے لیے حکومت نے کسانوں کو کھادوں پر اربوں روپے کی سبسڈی دی ت جس کی وجہ سے 2017-18 میں کھادوں کے استعمال میں39 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ترجمان نے کہاکہ کھادوں کی ڈیمانڈ زیادہ جبکہ سپلائی کم ہونے کے تناظر میںکھادوں کی قیمت میںمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ترجمان نے کہاکہ 2017-18 میں پنجاب میں زرعی گروتھ ریٹ 3.81 فیصد رہا جو کہ گذشتہ 13برس کی نسبت سب سے زیادہ ہے ۔محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے اے پی پی کو بتایاکہ 2017-18 میں گروتھ ریٹ 3.81 فیصد اور فصلات کے شعبے میں گذشتہ 9 برس میں سب سے زیادہ 2.09 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی۔

متعلقہ عنوان :