پی ٹی آئی کی جانب سے ٹکٹس کی تقسیم کا معاملہ

پی ٹی آئی نے سالوں کی رفاقت اور وفاداری بھُلا دیا، اپنے پُرانے ٹکٹ ہولڈرز اور سینئیر رہنما نظر انداز

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ جون 14:44

پی ٹی آئی کی جانب سے ٹکٹس کی تقسیم کا معاملہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09 جون 2018ء) ::پی ٹی آئی نے گذشتہ روز اپنے انتخابی اُمیدواروں کی فہرست جاری کی۔ پاکستان تحریک انصاف نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے 60 فیصدامیدواروں کا اعلان کیا۔لیکن پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کو ٹکٹ سے محروم رکھا۔ فردوس عاشق اعوان،،بابر اعوان،، شوکت یوسفزئی، علی محمد،فیصل واڈا،شہر یار آفریدی،،ڈاکٹر عامر لیاقت،سیف اﷲ نیازی، ولید اقبال ٹکٹ سے محروم رہے  ۔

پی ٹی آئی قیادت نے انتخابات کے لیے شیخوپورہ میں قومی اسمبلی کی 4 اور صوبائی اسمبلی کے 9حلقوں  کے لیے اپنے اُمیدواروں کی نامزدگی کردی ، 2013 ء کے انتخابات میں حصہ لینے والے اکثر ٹکٹ ہولڈرز کو مکمل طور پر آؤٹ کردیا گیا اور جن اُمیدواروں کو ٹکٹ دئیے گئے ان میں سے اکثریت کا تعلق(ق) لیگ اور (ن) لیگ سے ہے ۔

(جاری ہے)

این اے 119 میں سابق ٹکٹ ہولڈر بریگیڈئیر (ر) راحت امان اﷲ کو ٹکٹ جاری کیا گیا، ان کا مقابلہ ن لیگ کے رانا افضال حسین سے ہوگا ۔

این اے 120 میں حاجی علی اصغر منڈا کو ٹکٹ جاری کردیا، ان کا مقابلہ رانا تنویر حسین سے ہوگا۔ این اے 121 میں چودھری محمد سعید ورک کو ٹکٹ دیا گیا ،ان کا مقابلہ میاں جاوید لطیف اور (ق) لیگ اور پیپلزپارٹی کے مشترکہ امیدوار خرم منور منج سے ہوگا ۔ این اے 122میں رانا علی سلمان کو ٹکٹ دیا گیا جن کا مقابلہ سردار عرفان ڈوگر،رائے اعجاز احمد خان اور سرفراز احمد خان کے ساتھ ہوگا ۔

پی پی 135 میں عمر آفتا ب ڈھلوں، پی پی 136 سے خرم اعجاز چٹھہ، پی پی 137 سے علی عباس، پی پی 138 سے ابھی کسی کا اعلان نہیں کیا گیا، پی پی 139 سے راؤ جہانزیب ،پی پی 140 سے میاں خالد محمود، پی پی 141 میں عابد حسین چٹھہ ،پی پی 142 میں خان شیر اکبر خان ،پی پی 143 سے رانا وحید احمد خان کوپارٹی ٹکٹ جاری کیا گیا ۔ پارٹی قیادت نے سینئر ترین پارٹی رہنماؤں حاجی میاں شفیق اشرفی ، کنور عمران سعید ،عامر گجر، معراج خالد گجر، ابوبکر مشتاق ورک ،سرفراز ڈوگر، احمد معین سندھو، خرم شہزاد ورک ودیگر نظر انداز کردیا ۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان حلقوں میں اب پی ٹی آئی کے متعدد امیدواران آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لینے کیلئے میدان میں کود پڑے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے گزشتہ انتخابات میں ہزاروں ووٹ لینے والے بانی رہنما کو بھی ٹکٹ سے محروم کردیا ۔ حامد خان نے 2013ء کے انتخابات میں لاہور کے حلقہ این اے 125 سے خواجہ سعد رفیق کے خلاف الیکشن لڑا تھا، تاہم اس مرتبہ انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کی گئی فہرست میں کئی غلطیاں بھی دیکھنے میں آئیں جیسے کہ پی ٹی آئی نے اپنی انتخابی فہرست میں مسلم لیگ ن کی رہنما نازیہ راحیل کو بھی نامزد کر دیا جس کی نازیہ راحیل نے تردید کی ۔ پارٹی کی جانب سے جاری کی جانے والی فہرست پر کئی کارکنان اور پارٹی رہنماؤں نے اعتراض اُٹھایا جس کے پیش نظر ناراض کارکنان نے گرینڈ الائنس کے نام سے ایک اتحاد تشکیل دے دیا ہے جس میں مردان سے تعلق رکھنے والے کارکنان بھی شامل ہیں، اس گرینڈ الائنس کے ناراض کارکنان پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ کے باہر احتجاج کریں گے۔

پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان نے ٹکٹ نہ ملنے والوں کے لیے پیغام جاری کیا جس میں کہا گیا کہ انتخابی اُمیدواروں کو ٹکٹ کا اجرا ایک نہایت اہم لیکن کٹھن مرحلہ تھا۔ہمیں ساڑھے4 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، یہ ایک فطری امر تھا کہ سب کو ٹکٹس دینا ناممکن تھا۔ پارٹی نے نہایت محنت و دیانتداری سے فیصلے کیے، جہاں ضرورت محسوس کی خفیہ انداز میں عوام اور کارکنان سے رائے بھی طلب کی۔

دیرینہ کارکنان اور پارٹی وفاداری کو فیصلہ سازی میں ملحوظ خاطر رکھا گیا۔ پارٹی چئیرمین نے کہا کہ جن لوگوں کو ٹکٹس نہیں ملے، میں انہیں ساتھ چلنے کی دعوت دیتا ہوں۔ الیکشن کے پیش نظر پی ٹی آئی میں دیگر سیاسی جماعتوں سے کئی بڑے بڑے ناموں نے شمولیت اختیار کی ،عین ممکن ہے کہ پارٹی میں شمولیت کرنے والوں کو اعتماد میں لینے کے لیے پارٹی کے بانی رہنماؤں سمیت اہم رہنماؤں کو ٹکٹ جاری نہ کیا گیا ہو، پی ٹی آئی میں بڑے سیاسی ناموں کی شمولیت کا یہ سلسلہ نواز شریف کی نا اہلی اور الیکشن کے نزدیک آنے پر تیز ہو گیا جب مسلم لیگ ن سمیت دیگر سیاسی جماعتوں میں سے کئی بڑے بڑے سیاسی رہنماؤں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔

بڑے سیاسی ناموں کی پی ٹی آئی میں شمولیت اور ان کو ٹکٹ جاری ہونے کے معاملے پر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو بھی اس بات کا اندازہ ہو گیا ہے کہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کی سیاسی پوزیشن مضبوط ہو گی جس کی وجہ سے انہوں نے پی ٹی آئی میں شامل ہو کر اپنا سیاسی کیرئیر مزید محفوظ کر لیا ہے۔