مشرقی افغانستان میں داعش جنگجوئوں کیخلاف سخت آپریشن کریں گے، جنرل نکلسن

ہفتہ جون 15:09

برسلز(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) افغانستان میں غیر ملکی اور امریکی فوج کے سپریم کمانڈر جنرل جان نکلسن نے کہا ہے کہ مشرقی افغانستان میں جہادی کارروائیوں میں مصروف داعش کو اگلے ایام کے دوران سخت عسکری آپریشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں نیٹو اتحادی ممالک کے وزرائے دفاع سے ملاقات کے موقع پر جنرل نکلسن کا کہنا تھا کہ کابل حکومت کی جانب سے طالبان کے خلاف جنگ بندی کے اعلان کے بعد داعش پر توجہ مرکوز کرنا آسان ہو گا۔

صوبے ننگرہار میں انتہا پسند جہادی گروپ داعش اپنے قدم جمانے کی کوشش میں ہے۔۔نیٹو ہیڈ کوارٹرز میں امریکی جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ افغان صدر اشرف غنی کی طرف سے جنگ بندی کا یکطرفہ اعلان طالبان کے علاوہ کسی اور گروپ پر قابل عمل نہیں ہے۔

(جاری ہے)

امریکی جنرل کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی افغان پالیسی کے اثرات سامنے آنے لگے ہیں اورطالبان کابل حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرنے پر غور کررہے ہیں۔

نکلسن کے مطابق صدر ٹرمپ کی پالیسی کو اثر دکھانے کیلیے ابھی مزید وقت درکار ہے کیونکہ سردست اس کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے ہیں علاوہ ازیں افغانستان میں غیر ملکی اور امریکی فوج کے سپریم کمانڈر جنرل جان نکلسن نے کہا ہے کہ جنگ کرنے والے طالبان کو افغانستان کے پڑوس کی حمایت حاصل ہے، نیٹو ممالک کے وزرائے دفاع کی کانفرنس میں افغانستان سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے جن میں خاص طور پر افغان نیشنل آرمی یا اے این اے ٹرسٹ فنڈ کو 2024ئ تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

برسلز میں قائم نیٹو ہیڈ کوارٹرز میں نیٹو ممالک کے وزرائے دفاع اور داعش مخالف محاذ کے 46 رکن ممالک کے اجلاس کے انعقاد کے موقع پر امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا کہ عراق اور شام میں دولت اسلامیہ یا داعش کی خلافت کو تقریباً ختم کیا جا چکا ہے لیکن ابھی اس بات کا امکان موجود ہے کہ اس دہشت گرد تنظیم کی باقیات دنیا کے دیگر ممالک میں دہشت گردی کی کاروائیاں کریں گے۔افغان وزیر دفاع طارق شاہ بہرام نے برسلز میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت نے طالبان کو امن کی یکطرفہ جنگ بندی صورتحال میں بہتری کے لیے دی ہے اسے کسی طور پر بھی کمزوری نہ سمجھا جائی