گزشتہ پانچ سال کے دوران پاکستان نے قرضے لینے میں زبردست ترقی کی ،

44 ارب ڈالر سے ز ائد قرضوں کے باوجود ملک دیوالیہ ہو رہا ہے،بجلی کی پیداوار میں گیارہ ہزار میگاواٹ کے اضافہ کا دعویٰ مگر لوڈ شیڈنگ بے قابو،ایف پی سی سی آئی

ہفتہ جون 15:46

گزشتہ پانچ سال کے دوران پاکستان نے قرضے لینے میں زبردست ترقی کی ،
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) ایف پی سی سی آئی کے چئیرمین کو آرڈینیشن ملک سہیل حسین نے کہا ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران پاکستان نے ملکی و غیر ملکی قرضے لینے میں فقید المثال ترقی کی ہے۔سابقہ حکومت نے پانچ سال میں نے چوالیس ارب ڈالر سے زیادہ کے قرضے لئے جو ایک ریکارڈ ہے مگر اسکے باوجود مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل گر رہے ہیں جس کا حل توہین آمیز شرائط پر ایک نئے قرضے کا حصول ہے۔

ملک سہیل حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ بھاری مقدار میں قرضے لینے کے باوجود ملک اسی طرح ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا ہے جیسے کہ 2013 میں دیوالیہ ہو رہا ہے ۔ ن لیگ نے ملک پر چڑھے ہوئے قرضوں میں پچاس فیصد سے زیادہ کا اضافہ کر کے انھیں نوے ارب ڈالر سے بڑھا دیا مگر اس سے عوام یا معیشت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔

(جاری ہے)

قرضوں کے علاوہ روپے کی قدر میں دس فیصد تک کمی کی گئی جس سے عوام پر مالی دبائومیں اضافہ ہوا جبکہ غیرملکی قرضوں میں بیٹھے بٹھائے کھربوں روپے کا اضافہ ہو گیا۔

توانائی کی مجموعی درامدات برامدات کے ساٹھ فیصد تک جا پہنچیں۔ایل این جی ڈیل میںبدانتظامی اور اقرباء پروری کو وجہ سے ملکی تاریخ میں پہلی بار گیس کے شعبہ میںبھی گردشی قرضہ کی بنیاد رکھی گئی اور سرکاری خزانہ کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔حکومت نے نیشنل گرڈ میں گیارہ ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی شامل کرنے کا دعویٰ تواتر سے دہرایا مگر ملک کا کوئی ایسا حصہ نہیں جو جون کی گرمی میں لوڈ شیڈنگ سے محفوظ ہو۔

جس طرح لوڈ شیڈنگ اور گردشی قرضے کے خاتمے کا وعدہ پورا نہیں ہو سکا اسی طرح سابقہ حکومت غربت بے روزگاری کرپشن اور منافع خوری کے خاتمے، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اصلاحات، سستے اور فوری انصاف کے حصول،گڈ گورننس، صوبائی ہم آہنگی،برامدات بڑھانے، قرضے گھٹانے،صنعتوں کا جال پچھانے، ٹیکس کے نظام کو عوام دوست بنانے، تعلیم عام کرنے، زراعت کو ترقی دینے ، نقصان میں چلنے والے اداروں سے جان چھڑانے سمیت متعدد وعدے پورے نہیں کر سکی۔انھوں نے کہا کہ ریکارڈ قرضوں کا بوجھ سیاستدان نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلیں ادا کریں گی۔