صہیونی عقوبت خانوں میں صفائی کے ناقص انتظام ،

جیلیں موذوی جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کامسکن بن گئیں صہیونی جیلر قید خانوں میں گندگی اور کیڑے مکوڑوں کو فلسطینیوں کو اذیتیں دینے کے حربے کے طورپر استعمال کرتے ہیں، رافت حمدونہ

ہفتہ جون 15:54

مقبوضہ بیت المقدس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) فلسطین میں انسانی حقوق اور اسیران کی بہبود کیلئے کام کرنیوالی تنظیموں نے چونکا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صہیونی عقوبت خانوں میں صفائی کے ناقص انتظام کے باعث جیلیں موذوی جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کامسکن بن چکی ہیں جو فلسطینی قیدیوں کیلئے ایک نیا عذاب ہیں۔اطلاعات کے مطابق اسیران اسٹڈی سینٹر کی طرف سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی تمام جیلیں بالخصوص جزیرہ نما النقب، ایچل، الرملہ، نفحہ، بئر سبع، الدامون، شطہ اور عسقلان میں صفائی کا نظام انتہائی ناقص ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف فلسطینی قیدی وبائی امراض کا شکار ہو رہے ہیں بلکہ جیلیں موذی جانوروں اور کیڑے مکوڑوں سے بھر چکی ہیں۔

فلسطینی اسیران اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر رافت حمدونہ نے بتایا کہ صہیونی جیلر قید خانوں میں گندگی اور کیڑے مکوڑوں کو فلسطینیوں کو اذیتیں دینے کے ایک حربے کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جیلوں میں سانپ، زہریلے بچھو، کاکروچ اور پسو عام ہیں۔ بئر سبع، النقب اور متعدد دوسری جیلوں میں قیدیوں کی طرف سے سانپوں اور بچھوؤں کی موجودگی کی شکایات کی گئی ہیں۔

حمدونہ نے کہا ہ ایسے لگتا ہے کہ صہیونی جیلر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جیلوں میں سانپ اور بچھو پال رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ صہیونی جیلوں میں خطرناک حشرات الارض کی موجودگی کی شکایات ملی ہیں، اس سے قبل بھی اسرائیلی جیلوں میں ایسی شکایات عام رہی ہیں۔ نفحہ جیل میں قیدیوں نے پہلے اور دوسرے درجے کے کئی زہریلے بچھو مارے ہیں مگر آئے روزنئے بچھو بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو فلسطینیوں کی جان کیلئے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :