ایکٹ 74 میں ترامیم کیلئے ریاست کو باوقار،بااختیار بنانے کے لیے دھاندلی کی پیداوار لیگی حکومت کا ساتھ دیا‘

ریاستی تشخص پر پہلے سمجھوتہ کیا نہ کرینگے‘ خالدابراہیم ایشو پہ چیف جسٹس آزادکشمیر ایک کمیٹی بنائیں جو تحقیقات کرے کہ توہین عدالت ہوئی ہے یا نہیں‘ ہم خالد ابراہیم نے جو سٹینڈلیا ہے اس کی حمایت کرتے ہیں‘مجھے اقتدار میں آنے کی نہیں فاروق حیدر کوجانے کی جلدی ہے ہم یہ خواہش بھی پوری کرنے کو تیارہیں تحریک انصاف آزادکشمیر کے صدر، سابق وزیراعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا مظفر آباد میں افطار ڈنر سے خطاب

ہفتہ جون 16:10

مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر کے صدر، سابق وزیراعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ ایکٹ 74 میں ترامیم کیلیے ریاست کو باوقار،بااختیار بنانے کے لیے دھاندلی کی پیداوار لیگی حکومت کا ساتھ دیا، ریاستی تشخص پر پہلے سمجھوتہ کیا نہ کرینگے، خالدابراہیم ایشو پہ چیف جسٹس آزادکشمیر ایک کمیٹی بنائیں جو تحقیقات کرے کہ توہین عدالت ہوئی ہے یا نہیں، ہم خالد ابراہیم نے جو سٹینڈلیا ہے اس کی حمایت کرتے ہیں،آزادکشمیر عدلیہ میں حالیہ ججز تعیناتی پر وکلا برادری کو بہت تحفظات ہیں، ایسے حکومتی من مرضی نہیں چلے گی، مجھے اقتدار میں آنے کی نہیں فاروق حیدر کوجانے کی جلدی ہے ہم یہ خواہش بھی پوری کرنے کو تیارہیں،آئینی ترمیم میں ہم نے ٹیکس کولیکشن کی حدتک دھاندلی کی پیداوار حکومت کا ساتھ دیا تھا، مگر اب سنا ہے کہ ایف بی آر، ایف آئی اے یا اس قسم کے اداروں کا دائرہ آزادکشمیر تک بڑھایا جارہاہے جو ناقابل قبول ہے بھرپورمذاحمت کرینگے،،مودی کا ہرجگہ پیچھا کرتا رہونگا،پاکستانی انتخابات میں کشمیری پی ٹی آئی کو کامیاب بنائیں گے،ان خیالات کا اظہار صدر تحریک انصاف آزادکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے مظفرآباد میں افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، افطارڈنر کے موقع پر منعقدہ عظیم الشان جلسہ کی صدارت سابق صدارتی مشیر سردار تبارک نے کی، اس عظیم الشان جلسہ میں ممبر اسمبلی ماجد خان، خواجہ فاروق، تقدیس گیلانی، چوہدری اسحاق طاہر، سید تبریزکاظمی، گلزار فاطمہ، سردارگل خنداں، جوادگیلانی، گلشن منہاس، عنبرین ترک، راجہ مدد، چوہدری ولی محمد، شاہدہ نقوی، سمیت پارٹی ذمہ داران نے قافلوں کے ہمراہ شرکت کی، جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ میں ہماری ذمہ داریاں زیادہ ہیں، ہم مظلوم کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے موثر جدوجہد کرسکتے ہیں اور کرتے رہیں گے جب تک بھارت کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق، حق خودارادیت نہیں دے دیتا، میں نے قبل ازیں بھی دنیا بھر میں بھارت کا گھناونا چہرہ بے نقاب کیا اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رکھوں گا، برہان وانی شہید کی برسی کے موقع پر برطانیہ میں ایک بار پھر تاریخی احتجاج کرینگے، نواز شریف نے مودی کی دوستی کیخاطر مجھے اسمبلی سے باہر کیا، اور دھاندلی کے ذریعہ آزادکشمیر پر لیگی حکومت مسلط کی دراصل نواز شریف تقسیم کشمیر کے ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتا ہے مگر میں آج یہ اعلان کرتا ہوں جب تک زندہ ہوں کوئی مائی کا لعل کشمیر کو تقسیم نہیں کرسکتا، انہوں نے مزید کہاکہ آزادکشمیر حکومت نے میرٹ پامالیوں کی انتہا کردی ہے، لوگوں سے روزگار چھینا جارہا ہے، ایسا لگتا ہے فاروق حیدر وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھنے کے لیے خود کو اہل نہیں سمجھتا، میں فل حال تحریک انصاف کی آزادکشمیر میں تنظیم نو کرنا چاہتا ہوں اور مجھے اقتدار میں آنے کی کوئی جلدی نہیں مگر فاروق حیدر کو اقتدار سے جانے کی جلدی ہے، میں یہ خواہش پوری کرنے کوتیار ہوں، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ رکنیت سازی مہم جاری رکھیں تاکہ پارٹی کی تنظیم نو کی جاسکے، 25 جولائی کو پاکستان میں تحریک انصاف کامیاب ہوگی اور میرے اور آپ کے قائد عمران خان پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہونگے، پھر آزادکشمیر کے عوام کو بھی اجارہ داری سے نجات ملے گی۔