محکمہ تعلیم میں ’’کراچی کلچر‘‘پروان نہیں چڑھنے دیں گے

اہل کوٹلی نے ایف اے،ایف ایس سی کے امتحانات کی شفافیت پر اُنگلی اُٹھا دی

ہفتہ جون 16:10

کوٹلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) اہل کوٹلی نے ایف اے،ایف ایس سی کے امتحانات کی شفافیت پر اُنگلی اُٹھا دی،کہتے ہیں محکمہ تعلیم میں ’’کراچی کلچر‘‘پروان نہیں چڑھنے دیں گے۔تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ گزشتہ روز انجمن تاجراں صرافہ بازار کے صدر ظفر ملک، پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر کے رہنما حبیب ملک اور نوجوان مسلم لیگی رہنما عرفان عارف نے ڈسٹرکٹ پریس کلب کوٹلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایف اے اور ایف ایس سی کے امتحانات کے دوران ’’بوٹی مافیا‘‘کا راج دیکھ کر حیران رہ گئے، ہم نے طالبات کی شکایات پر سکول نمبر2کا وزٹ کیا تو وہاں بہت سی چیزیں خلاف ضابطہ پائیں گئیں جن پر ہم نے وہاں عملے کے سامنے احتجاج بھی کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ سکول نمبر 2میں امتحان دینے والی طالبات تمام بے ضابطگیوں کی گواہ ہیں کہ کیسے کچھ لڑکیوں کو اُن کی من پسند جگہ پر بٹھا کر پیپر حل کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی اور کیسے وقت ختم ہونے کے بعد کچھ طالبات کو پیپر حل کرنے کے لیے اضافی وقت دیا گیا۔

(جاری ہے)

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا مزید کہنا تھا کہ طالبات اپنے مستقبل سے خوف زدہ ہوکر سب کے سامنے آواز بلند کرنے سے قاصر ہیں اگر ارباب اختیار اس سنگین مسئلہ پر نوٹس لیتے ہوئے انکوائری تشکیل دیں اور امتحان میں شریک طالبات سے بیان قلم بند کریں تو دودھ کا دودھ اور پانی اور پانی ہو جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ کوٹلی میں ’’کراچی کلچر‘‘کسی صورت پروان نہیں چڑھنے دیں گے ،آج ہم جو کچھ میڈیا کے سامنے بتا رہے ہیں اگر اُس پر ایکشن نہ لیا گیا تو ہم سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے اور اپنی بات منوائے بغیر احتجاج ختم نہیں کرینگے۔ اُنھوں نے پرائیوئٹ سکولزوکالجز میں امتحانی سینٹر بنائے جانے کے عمل پر بھی اعتراض اُٹھایا اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا کہ واقعات کی چھان بین کے لیے انکوائری کمیٹی یا کمیشن مقرر کیا جائے۔