پاک افغان کشیدہ تعلقات کے باوجود رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں افغانستان کو بھیجی جانیوالی برآمدات 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

ہفتہ جون 16:21

پاک افغان کشیدہ تعلقات کے باوجود رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باوجود رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران افغانستان کو بھیجی جانیوالی پاکستانی برآمدات 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔۔پاکستان کے جنوب میں واقع پڑوسی ملک اپنی روزانہ کی ضروریات کیلئے پاکستان پر انحصار کرتا ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت کبھی خوشگوار نہیں رہے، اس ضمن میں افغانستان کی تجارتی منڈی میں بھارت کے بڑھتے اثرورسوخ کے باعث پاکستانی تجارت میں کمی واقع ہوگئی تھی۔

اسٹیٹ بینک کی جاری حالیہ رپورٹ کے مطابق جولائی سے اپریل 18-2017 کے عرصے کے دوران افغانستان کیلئے پاکستانی برآمدات ایک ارب 28 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی تھیں، جو اس سے قبل مالی سال کے اس عرصے کے دوران 95 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھی۔

(جاری ہے)

مالی سال 2014-15کے دوران افغانستان کو بھیجی جانیوالی برآمدات کا حجم ایک ارب 69 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھا، جو مالی سال 2016 میں کم ہو کر ایک ارب 23 کروڑ ہوگیا تھا، جبکہ مالی سال 2017 میں اس میں مزید کمی ہونے کے بعد یہ حجم ایک ارب 16 کروڑ 50 لاکھ تک کم ہوگیا تھا۔

تاہم مالی سال 2018 میں گزشتہ 2 سال کے مقابلے میں اس میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے جس کے باقی 2 ماہ میں یہی سلسلہ جاری رہا تو تین سالہ ریکارڈ ٹوٹ سکتا ہے۔خیال رہے کہ افغانستان پاکستان سے زیادہ تر اشیائے خورونوش برآمد کرتا ہے جس میں گندم، آٹا، چاول اور گوشت شامل ہیں، تاہم ملک کی 50 فیصد آٹے کی ملز برآمدات میں کمی کے باعث بند ہوچکی ہیں۔اسی طرح پاکستانی کی کپڑے کی مصنوعات کابل میں بہت بڑے پیمانے پر فروخت کی جاتی تھیں، لیکن اب بھارتی اور چینی مصنوعات کی مداخلت کے باعث پاکستان کپڑے کی کھپت تقریباً ختم ہوگئی ہے۔