جماعت اسلامی نے اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ میں جواب داخل کرادیا

90 کے انتخابات میں جماعت اسلامی پر رقم لینے کا الزام جھوٹا اور من گھڑت ہے،جماعت یا اس کے کسی فرد نے آئی ایس آئی یا کسی دیگر تنظیم سے کوئی رقم نہیں لی جماعت اسلامی اپنے اوپر لگائے گئے الزام کے حوالہ سے کسی بھی کمیشن،فورم یا تفتیش میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے، جواب

ہفتہ جون 18:44

جماعت اسلامی نے اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ میں جواب داخل کرادیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) جماعتِ اسلامی پاکستان نے اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے مورخہ 6 جون 2018ء کے حکم کے مطابق سپریم کورٹ جواب داخل کردیا ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل اشتیاق احمد راجہ نے جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق کی طرف سے جواب داخل کرایا۔ جماعت اسلامی پاکستان کی طرف سے داخل کرائے گئے جواب میں کہا گیاہے کہ1990 کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی پر رقم لینے کا الزام جھوٹا اور من گھڑت ہے ۔

جماعت اسلامی پاکستان یا اسکے کسی فرد نے آئی ایس آئی یا کسی دیگر تنظیم سے کوئی رقم نہیں لی۔بلکہ اس کیس میں صرف جماعتِ اسلامی اپنے اوپر لگائے گئے الزام کی تردید میں سپریم کورٹ میں حاضر ہوتی رہی ہے ۔جماعتِ اسلامی پاکستان کی طرف سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ جسٹس (ر) شیخ خضر حیات نے متفرق درخواست 918/2007دائر کی تھی جس میں واضح طور پر اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ جماعت اسلامی اپنے اوپر لگائے گئے الزام کے حوالہ سے کسی بھی کمیشن،فورم یا تفتیش میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔یاد رہے کہ جماعت اسلامی پاکستان شروع دن سے اپنے اوپر لگائے گئے جھوٹے اور من گھڑت الزام کی تردید کرتی آئی ہے۔ 2012میں جب اصغر خان کیس کی سماعت اسوقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں معزز بنچ سماعت کررہا تھاتو جماعت اسلامی کے وکیل رضا کارانہ طور پر عدالت میںپیش ہوتے رہے اور اپنا موقف پیش کیا۔

اس دوران جماعتِ اسلامی پاکستان کے وکیل نے سپریم کورٹ کے آرڈر مورخہ 22 جون 2012ء کی روشنی میں استدعا کی تھی کہ ہمارے خلاف کوئی شہادت نہیں آئی۔ اسد درانی کے بیانِ حلفی میں مبہم اور غیر واضح انداز میں صرف جماعتِ اسلامی لکھا ہوا ہے، یہ نہیں بتایاگیا کہ کس نے کس کو رقم دی تھی۔ جماعت اسلامی پاکستان کی طرف سے ڈپٹی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے الزام کی مکمل تردید کرتے ہوئے بیانِ حلفی بھی سپریم کورٹ میں جمع کرادیا تھا، جس میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کے الزام کو بالکل غلط، بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا گیا تھا۔