چنگ ڈائو میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس شروع ہوگئی

صدر ممنون حسین ،نریندرا مودی اور ولادی میر پیوٹن اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کررہے ہیں تنظیم پاکستان اور رکن ممالک میں سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی رکن ممالک نے منشیات کی سمگلنگ اور سرحد پار جرائم روکنے کے لیے تعاون کے کئی میکنیزم تشکیل دیے ہیں پاکستان اور بھارت کیمکمل رکن بننے سے ایس سی او کی اہمیت اور اثرات میں اضافہ ہوا، لایو جن رانگ

ہفتہ جون 18:48

چنگ ڈائو میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس شروع ہوگئی
چنگ ڈائو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او))پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔کانفرنس کا افتتاح اتوار کو صدر شی جن پھنگ کریں گے۔۔پاکستان کی نمائندگی پاکستان کے صدر ممنون حسین کریں گے۔دیگر ممالک کے رہنما بھی اس عزیم فورم میں شرکت کے لیے پہنچ گئے ہیں۔

ان خیالات کااظہار وزارت پبلک سیکیورٹی کے انٹرنیشنل کواپریشن بیورو کے سربراہ نے 18ویں شنگھائی کانفرنس کے سلسلے میں ایک پریس کانفرنس میں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان امن وامان بارے تعاون ان ممالک کے اقتصادی تعاون اور ترقی کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کرے گا۔ایس سی او ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون میں اضافے کے باعث علاقائی سماجی صورتحال میں استحکام پیدا ہوا ہے۔

(جاری ہے)

اگرچے عالمی سلامتی کی صورتحال حالیہ برسوں کے دوران زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے انہوں نے کہا کہ سلامتی تعاون 2001میں شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام سے اب تک ہمیشہ ہماری ترجیح رہی ہے۔ اور رکن ممالک نے اب تک سیکڑوں دہشتگردوں حملوں کو ناکام بنایا ہے ۔بڑی تعداد میں مشتبہ دہشتگردوں کو گرفتار کیا ہے۔ اور ان کے کئی تربیتی کیمپ تباہ کیے ہیں۔ انہوں نے کہا دہشتگردی ،انتہا پسندی ، علیحدگی پسندی کے پھیلاو کوختم کردیا ہے۔

اس کے علاوہ رکن ممالک نے سلامتی تعاون کے شعبوں میں مزید توسیع کی ہے اور منشیات کی سمگلنگ اور دیگر سرحد پار جرائم کو رکنے کے لیے تعاون کے کئی میکنیزم تشکیل دیے ہیں۔ جن کے تحت کئی آپریشن موثر طور پر کیے گئے ہیں۔ دیگر کامیابیوں کے علاوہ دہشتگردی کا خاتمہ بھی ایس سی او کی ترجیح ہے۔تاہم منشیات کی سمگلنگ ،سرحد پار جرائم اسلحے کی سمگلنگ اور انٹرنیٹ سیکیورٹی شنگھائی تعاون تنظیم کے لیے نئے چیلنج بن کر سامنے آئے ہیں۔

رکن ممالک نے سلامتی کی نئی صورتحال کا اندازہ لگایا ہے اور اس کے لیے منصوبے ترتیب دیے ہیں۔ تاکہ نئے خطرات سے موثر طورپر نمٹا جاسکے۔۔چین رکن ممالک کے ساتھ انٹیلی جنٹس کے نظام کے تبادلے جاری رکھے گا۔ اور انھیں امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اپنے تجربات ،مہارت اور معلومات فراہم کرے گا۔ بھارت اور پاکستان نے گزشتہ سال آستانہ کانفرنس کے دوران مستقل رکنیت قبول کی تھی۔انہوں نے کہا کہ جب سے ان دو ممالک نے رکنیت قبول کی ہے ایس سی او کی اہمیت اور اثرات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے آٹھ مستقبل ارکان نے چین ،،بھارت،، قزاقستان، کرغستان ،،پاکستان روس تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔