مریم نواز کو کراچی سے الیکشن لڑوانے پر غور

شہباز شریف اور مریم نواز کو تین حلقوں سے الیکشن لڑوانے کی بھی تجویز

muhammad ali محمد علی ہفتہ جون 18:58

مریم نواز کو کراچی سے الیکشن لڑوانے پر غور
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) مریم نواز کو کراچی سے الیکشن لڑوانے پر غور، شہباز شریف اور مریم نواز کو تین حلقوں سے الیکشن لڑوانے کی بھی تجویز۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کا متعدد رہنمائوں کیخلاف مقدمات کی وجہ سے عام الیکشن کیلئے ن لیگ نے متبادل امیدواروں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ جبکہ شہباز شریف اور مریم نواز کو تین تین حلقوں سے الیکشن لڑنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کا اجلاس شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا مسلم لیگ ن کی جانب سے 2 مرحلوں میں پارٹی امیدواروں کا اعلان کرے گی ، پہلے مرحلے میں اتوار کو امیدواروں کا اعلان کیا جائے گا، مسلم لیگ ن نے امیدواروں کے ساتھ کورنگ امیدواروں کی تعداد میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، بعض حلقوں سے 3 سے 4 کورنگ امیدوار ہوں گے، ن لیگی رہنماوں کیخلاف مقدمات کی وجہ سے متبادل امیدوار رکھے جائیں گے۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں مریم نواز اور شہباز شریف کے تین تین حلقوں سے الیکشن لڑنے کی تجویز پر بھی غور کیا جارہا ہے، مریم نواز کو کراچی سے الیکشن لڑوانے کی بھی تجویز دی گی ہے۔ دوسری جانب مریم نواز نے کہا ہے کہ میرے الیکشن لڑنے کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی،این اے 125اور این اے 127کیلئے درخواستیں جمع کروا رہی ہوں، الیکشن لڑنے کا ابھی فی الحال فیصلہ نہیں کیا گیا۔

انہوں اپنے ٹویٹ میں پارٹی کارکنان اور ووٹرز کو آگاہ کیا ہے کہ انہوں نے 2انتخابی حلقوں این اے 125اور این اے 127سے کاغذات نامزدگی وصول کیے ہیں۔ جبکہ ان دونوں حلقوں کیلئے ٹکٹ لینے کیلئے درخواستیں جمع کروا رہی ہوں۔ تاہم این اے 125اور این اے 127سے میرے الیکشن لڑنے کا فیصلہ پارٹی اور قیادت کو کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ این اے 125اور این اے 127دونوں نشستوں سے الیکشن لڑنے سے متعلق فی الحال ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

واضح رہے مریم نواز سے متعلق چہ مگوئیاں گردش کر رہی ہیں کہ وہ این اے 127سے الیکشن لڑیں گی بعض کارکنان کو بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے والد نوازشریف کے انتخابی حلقے این اے 120جوکہ اب 125ہے وہاں سے الیکشن کے میدان میں اتریں گی۔ این اے 125میں ان کے مقابلے میں تحریک انصاف کی رہنماء ڈاکٹر یاسمین راشد کوکھڑا کیا جارہا ہے۔دونوں جماعتوں کے امیدواروں میں کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔

این اے 125سابق وزیراعظم نوازشریف کا انتخابی حلقہ ہے جبکہ بیگم کلثوم نواز کا آبائی حلقہ بھی ہے۔ نوازشریف کی پاناما کیس میں سپریم کورٹ میں نااہلی کے بعد این اے 120سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز نے الیکشن لڑا۔انہوں نے ڈاکٹر یاسمین راشد کو بھاری ووٹوں سے شکست دی۔تاہم بیگم کلثوم نوازکینسر کی بیماری میں مبتلا ہونے کے باعث لندن میں زیرعلاج تھیں اور ان کی غیرموجودگی میں ان کی انتخابی مہم ان کی بیٹی مریم نواز نے چلائی ۔

تاہم اب ایک بار پھر این اے 125میں کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنماء مریم نواز کو اس حلقے میں الیکشن جیتنے کیلئے فیورٹ قرار دیا جارہا ہے۔دوسری جانب پنجاب میں اصل مقابلہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان ہوگا۔جبکہ پیپلزپارٹی پنجاب میں متحرک اور منظم دکھائی نہیں دے رہی ہے۔